- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان
- حدیث نمبر 2309
باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2309
اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "قَالَ مُوْسٰى عَلَيْهِ السَّلَامُ : يَا رَبِّ عَلِّمْنِيْ شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهٖ أَوْ أَدْعُوْكَ بِهٖ فَقَالَ: يَا مُوْسٰى قُلْ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه، فَقَالَ: يَا رَبِّ! كلُّ عِبَادِكَ يَقُوْلُ هٰذَا ، إِنَّما أُرِيدُ شَيْئًا تَخُصُّنِيْ بِهٖ قَالَ: يَا مُوْسٰى! لَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَعَامِرَهُنَّ غَيْرِيْ، وَالأَرَضِيْنَ السَّبْعِ وُضِعْنَ فِي كِفَّةٍ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ فِي كِفَّةٍ لَمَالَتْ بِهِنَّ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "قال موسى عليه السلام : يا رب علمني شيئا أذكرك به أو أدعوك به فقال: يا موسى قل: لا إله إلا الله، فقال: يا رب! كل عبادك يقول هذا ، إنما أريد شيئا تخصني به قال: يا موسى! لو أن السماوات السبع وعامرهن غيري، والأرضين السبع وضعن في كفة ولا إله إلا الله في كفة لمالت بهن لا إله إلا الله". رواه في "شرح السنة".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا یارب مجھے وہ چیز سکھا جس سے تجھے یاد کیا کروں یا جس کے ذریعے تجھ سے دعا کروں ۱؎رب نے فرمایا اے موسٰی کہولا الہ الا اللهپھر عرض کیا یا رب یہ تو تیرے سارے بندے ہی کہتے ہیں میں تو کوئی ایسی خاص چیز چاہتا ہوں جس سے تو مجھے خاص کرے ۲؎فرمایا اے موسٰی اگر ساتوں آسمان اور میرے سواء ان کی آبادی اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں ۳؎اورلا الہ الا اللهدوسرے پلڑے میں تو ان سب پرلا الہ الا اللهبھاری ہوگا ۴؎(شرح سنہ)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی اے مولیٰ مجھے خصوصی ذکر و دعا بذریعہ وحی یا الہام سکھا عمومی ذکر و دعائیں تو تو نے مجھے بہت عطا فرمائی ہیں لہذا حدیث پر یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ کیا اب تک موسٰی علیہ السلام کو ذکر و دعا بھی معلوم نہ تھی اس کی تائید اگلے مضمون سے ہورہی ہے۔
۲؎چونکہ فطرت بشری ہے کہ عام نعمت کے مقابلہ میں خاص نعمت سے زیادہ خوش ہوتے ہیں اگرچہ عام نعمت کا نفع زیادہ ہی ہو،دیکھو ہوا،پانی،نمک وغیرہ کے مقابل سونے چاندی جواہر سے زیادہ خوش ہوتے ہیں،نماز پنجگانہ سے زیادہ نماز عید کی خوشی مناتے ہیں اسی لیے آپ نے یہ سوال فرمایا لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کلمہ سے خوش نہ ہوئے بلکہ اللہ تعالٰی نے یہ سوال موسٰی علیہ السلام کے دل میں خود ہی ڈالا تھا تاکہ اس کے جواب سے لوگوں کو کلمہ طیبہ کے مسائل کا پتہ چلے۔خیال رہے کہ یہاںلا الہ الا اللهسے مراد صرف یہ ہی الفاظ ہیں کیونکہ شریعت موسوی میں کلمہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم داخل نہ ہوا تھا یہ جزء تو دین محمدی کی خصوصیات سے ہے۔
۳؎خلاصہ جواب یہ ہے کہ اے موسیٰ تم کوئی خاص عمل و وظیفہ ایسا چاہتے ہو جولا الہ الا اللهسے افضل ہو ایسا کوئی وظیفہ نہیں، تمام سے بہتر افضل یہ ہی کلمہ ہے۔ساتوں زمین و آسمان اور ان کے باشندوں میں انسان حیوانات اور ان کے سارے عمل داخل ہیں لہذا تمام وظیفے،اوراد،عبادات سب سے کلمہ طیبہ افضل ہوا کیونکہ رب کا نام مخلوق سے افضل و بہتر ہے ہاں اس کلمہ سے مختلف لوگ مختلف فائدے اٹھاتے ہیں۔جہاں تک اس کی فہم و عمل زیادہ وہاں تک اس کا فیض زیادہ،ہمارے کلمہ پڑھنے سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا کلمہ پڑھنا کہیں افضل و بہتر ہے یہ ہی حال ساری عبادات کا ہے۔(ازمرقات)
۴؎یعنی اس کلمہ کا مضمون اور اس کا ثواب تمام مخلوق سے زیادہ وزنی ہے بشرطیکہ اخلاص سے پڑھا جائے ورنہ منافقین بھی کلمہ پڑھتے تھے،اب بھی بعض مشرکین کلمہ پڑھ لیتے ہیں ان کے کلمہ کا نہ وزن ہے نہ ثواب،وزن صرف الفاظ کا نہیں،اس کا مضمون کیا ہے،اللہ تعالٰی کی وحدانیت،یہ تمام صفات الہیہ سے اعلیٰ صفت ہے وہ یقینًا ساری خلق سے اعلیٰ ہے۔فقیر کی اس تقریر سے یہ اعتراض اٹھ گیا کہ انبیائے کرام خصوصًا حضور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم تو اشرف الخلق ہیں اور یہ الفاظلا الہ الا اللهبھی خلق میں داخل ہیں تو نبی ان سے بھی افضل ہونا چاہئیں کیونکہ یہ الفاظ خلق ہیں مگر ان کا مضمون یعنی رب کی وحدانیت خلق نہیں رب کی صفت ہے جیسے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم قرآن کے الفاظ سے افضل ہیں مگر قرآن کلام الٰہی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے افضل ہے کہ وہ صفت الٰہی ہے اسی طرح الفاظ قرآن حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے تابع ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم عربی ہیں تو قرآن بھی عربی،جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مکی تھے تو آیات قرآنیہ مکیہ ہوئیں،جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مدنی ہوگئے تو آیات قرانیہ بھی مدنیہ ہوگئیں مگر مضمون قرآن کی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اتباع کرتے ہیں۔ـ
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2309