Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2310

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ وَأَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، صَدَّقَهٗ رَبُّهٗ قَالَ:لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا وَأَنَا أَكْبَرُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ، يَقُوْلُ اللّٰهُ: لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا وَحْدِيْ لَا شَرِيْكَ لِيْ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِي" وَكَانَ يَقُوْلُ: "مَنْ قَالَهَا فِي مَرَضِهٖ ثُمَّ مَاتَ لَمْ تَطْعَمْهُ النَّارُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن أبي سعيد وأبي هريرة قالا: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من قال: لا إله إلا الله والله أكبر، صدقه ربه قال:لا إله إلا أنا وأنا أكبر، وإذا قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، يقول الله: لا إله إلا أنا وحدي لا شريك لي، وإذا قال: لا إله إلا الله له الملك وله الحمد، قال: لا إله إلا أنا لي الملك ولي الحمد، وإذا قال: لا إله إلا الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله، قال: لا إله إلا أنا، لا حول ولا قوة إلا بي" وكان يقول: "من قالها في مرضه ثم مات لم تطعمه النار". رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید و حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کہتا ہےلا الہ الا الله والله اکبرتو رب تعالٰی اس کی تصدیق کرتا ہے کہتا ہے کہ واقعی میرے سواءکوئی معبود نہیں اور میں بہت بڑا ہوں ۱؎اور جب بندہ کہتا ہے کہ اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں تو رب فرماتاہے واقعی میرے سواءکوئی معبود نہیں میں اکیلا ہوں میرا کوئی شریک نہیں ۲؎اور جب بندہ کہتا ہے اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی تعریف ہے تو رب فرماتا ہے واقعی میرے سواء کوئی معبود نہیں میرا ہی ملک ہے میری ہی تعریف ہے ۳؎جب بندہ کہتا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قوت تو رب فرماتا ہے واقعی میرے سواءکوئی معبود نہیں میرے بغیر نہ قوت ہے نہ طاقت ۴؎حضور فرماتے تھے کہ جو یہ کلمات اپنے مرض میں کہے پھر مرجائے تو اسے آگ نہ جلائے گی ۵؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی رب تعالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ یہ پڑھ رہا ہے اور وہ سچا ہے سچ کہہ رہاہے۔سبحان الله !بندے کی خوش نصیبی ہے کہ اسی کی تھوڑی سی لب کی حرکت سے اس کا ذکر بارگاہِ رب العالمین میں فرشتوں کے سامنے آجائے اور ساتھ میں خود رب تعالٰی تصدیق بھی فرمادے۔
۲
؎یعنی یہ بندہ وہ گواہی دے رہا ہے جس کی میں اور میرے فرشتے اور میری تمام خلق گواہی دیتے ہیں۔خیال رہے کہ ساری نیکیاں صرف بندے کرتے ہیں مگر گواہی توحید،حضور پر درود (صلی اللہ علیہ وسلم)حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی عزت افزائی،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی میلاد خوانی وہ اعمال ہیں جو رب تعالٰی،فرشتوں اور تمام مخلوق کے عمل ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ"۔ اللہ تعالٰی نے کسی نیکی کے حکم میں اپنا اور اپنے فرشتوں کا ذکر نہ فرمایا سواء درود شریف کے۔سبحان الله !کلمۂ توحید ایسی پاکیزہ نعمت ہے کہ رب تعالٰی بھی اس میں شرکت فرماتاہے۔
۳
؎ملك و ملکوت کا فرق پہلے بیان ہوچکا ہے۔ملک تو مجازًا بادشاہ کا بھی ہوجاتا ہیں مگر ملکوت وہ چیز ہے جو رب تعالٰی کے سوا کسی کے قبضہ میں نہیں۔یہاںلی الملكمیں حصر حقیقت کے لحاظ سے ہے یعنی حقیقتًا ملک میرا ہی ہے عارضی طور پر مجازًا جسے ملک ملا وہ میری عطاء سے ملا۔شعر
درحقیقت مالک ہر شئے خدا ست
ایں امانت چند روزہ نزدما است
۴
؎حول و قوت کے نفیس فرق ابھی کچھ پہلے بیان ہوچکے اورلاحولشریف کے فوائدعرض کئے جاچکے۔بندہ رب سے کٹ کر کچھ نہیں نہ اس میں حول رہتی ہے نہ قوت مگر رب سے واصل ہو کر سب کچھ بن جاتا ہے کہ اس میں حول بھی آجاتی ہے اور قوت بھی،قطرہ دریا سے الگ ہو تو کچھ نہیں مگر دریا میں جاتے ہی اس میں روانی،طغیانی،فراوانی سب کچھ آجاتی ہے،شیشہ سائے میں رہے تو کچھ نہیں مگر آفتاب کے مقابل ہوکر اس میں شعاعیں روشنی تیزی دھوپ سب کچھ آجاتی ہے ۔الا باللهمیںبالصاق کی ہے یعنی اللہ سے مل کر بندے میں حول و قوت سب کچھ آجاتی ہے۔
۵
؎یعنی اسے قبر حشر اور حشر سے فارغ ہونے کے بعد کبھی آگ کا عذاب نہ ہوگا اور جب وہ پل صراط سے گزر گیا تو آگ کا اس پر اثر نہ ہوگا۔سبحان الله !یہ کلمات ایسا روحانی مصالحہ ہیں جس کے لگ جانے سے جہنم کی آگ اثر نہیں کرتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2310