- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان
- حدیث نمبر 2310
باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2310
اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ وَأَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، صَدَّقَهٗ رَبُّهٗ قَالَ:لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا وَأَنَا أَكْبَرُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ، يَقُوْلُ اللّٰهُ: لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا وَحْدِيْ لَا شَرِيْكَ لِيْ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِي" وَكَانَ يَقُوْلُ: "مَنْ قَالَهَا فِي مَرَضِهٖ ثُمَّ مَاتَ لَمْ تَطْعَمْهُ النَّارُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
وعن أبي سعيد وأبي هريرة قالا: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من قال: لا إله إلا الله والله أكبر، صدقه ربه قال:لا إله إلا أنا وأنا أكبر، وإذا قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، يقول الله: لا إله إلا أنا وحدي لا شريك لي، وإذا قال: لا إله إلا الله له الملك وله الحمد، قال: لا إله إلا أنا لي الملك ولي الحمد، وإذا قال: لا إله إلا الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله، قال: لا إله إلا أنا، لا حول ولا قوة إلا بي" وكان يقول: "من قالها في مرضه ثم مات لم تطعمه النار". رواه الترمذي وابن ماجه
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوسعید و حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کہتا ہےلا الہ الا الله والله اکبرتو رب تعالٰی اس کی تصدیق کرتا ہے کہتا ہے کہ واقعی میرے سواءکوئی معبود نہیں اور میں بہت بڑا ہوں ۱؎اور جب بندہ کہتا ہے کہ اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں تو رب فرماتاہے واقعی میرے سواءکوئی معبود نہیں میں اکیلا ہوں میرا کوئی شریک نہیں ۲؎اور جب بندہ کہتا ہے اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی تعریف ہے تو رب فرماتا ہے واقعی میرے سواء کوئی معبود نہیں میرا ہی ملک ہے میری ہی تعریف ہے ۳؎جب بندہ کہتا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قوت تو رب فرماتا ہے واقعی میرے سواءکوئی معبود نہیں میرے بغیر نہ قوت ہے نہ طاقت ۴؎حضور فرماتے تھے کہ جو یہ کلمات اپنے مرض میں کہے پھر مرجائے تو اسے آگ نہ جلائے گی ۵؎(ترمذی،ابن ماجہ)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی رب تعالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ یہ پڑھ رہا ہے اور وہ سچا ہے سچ کہہ رہاہے۔سبحان الله !بندے کی خوش نصیبی ہے کہ اسی کی تھوڑی سی لب کی حرکت سے اس کا ذکر بارگاہِ رب العالمین میں فرشتوں کے سامنے آجائے اور ساتھ میں خود رب تعالٰی تصدیق بھی فرمادے۔
۲؎یعنی یہ بندہ وہ گواہی دے رہا ہے جس کی میں اور میرے فرشتے اور میری تمام خلق گواہی دیتے ہیں۔خیال رہے کہ ساری نیکیاں صرف بندے کرتے ہیں مگر گواہی توحید،حضور پر درود (صلی اللہ علیہ وسلم)حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی عزت افزائی،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی میلاد خوانی وہ اعمال ہیں جو رب تعالٰی،فرشتوں اور تمام مخلوق کے عمل ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ"۔ اللہ تعالٰی نے کسی نیکی کے حکم میں اپنا اور اپنے فرشتوں کا ذکر نہ فرمایا سواء درود شریف کے۔سبحان الله !کلمۂ توحید ایسی پاکیزہ نعمت ہے کہ رب تعالٰی بھی اس میں شرکت فرماتاہے۔
۳؎ملك و ملکوت کا فرق پہلے بیان ہوچکا ہے۔ملک تو مجازًا بادشاہ کا بھی ہوجاتا ہیں مگر ملکوت وہ چیز ہے جو رب تعالٰی کے سوا کسی کے قبضہ میں نہیں۔یہاںلی الملكمیں حصر حقیقت کے لحاظ سے ہے یعنی حقیقتًا ملک میرا ہی ہے عارضی طور پر مجازًا جسے ملک ملا وہ میری عطاء سے ملا۔شعر
درحقیقت مالک ہر شئے خدا ست
ایں امانت چند روزہ نزدما است
۴؎حول و قوت کے نفیس فرق ابھی کچھ پہلے بیان ہوچکے اورلاحولشریف کے فوائدعرض کئے جاچکے۔بندہ رب سے کٹ کر کچھ نہیں نہ اس میں حول رہتی ہے نہ قوت مگر رب سے واصل ہو کر سب کچھ بن جاتا ہے کہ اس میں حول بھی آجاتی ہے اور قوت بھی،قطرہ دریا سے الگ ہو تو کچھ نہیں مگر دریا میں جاتے ہی اس میں روانی،طغیانی،فراوانی سب کچھ آجاتی ہے،شیشہ سائے میں رہے تو کچھ نہیں مگر آفتاب کے مقابل ہوکر اس میں شعاعیں روشنی تیزی دھوپ سب کچھ آجاتی ہے ۔الا باللهمیںبالصاق کی ہے یعنی اللہ سے مل کر بندے میں حول و قوت سب کچھ آجاتی ہے۔
۵؎یعنی اسے قبر حشر اور حشر سے فارغ ہونے کے بعد کبھی آگ کا عذاب نہ ہوگا اور جب وہ پل صراط سے گزر گیا تو آگ کا اس پر اثر نہ ہوگا۔سبحان الله !یہ کلمات ایسا روحانی مصالحہ ہیں جس کے لگ جانے سے جہنم کی آگ اثر نہیں کرتی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2310