Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2318

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مَرَّ عَلٰى شَجَرَةٍ يَابِسَةِ الْوَرَقِ، فَضَرَبَهَا بِعَصَاهُ، فَتَنَاثَرَ الْوَرَقُ، فَقَالَ: "إِنَّ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ تُسَاقِطُ ذُنُوْبَ العَبْدِ كَمَا يتَسَاقَطُ وَرَقُ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن أنس أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مر على شجرة يابسة الورق، فضربها بعصاه، فتناثر الورق، فقال: "إن الحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله والله أكبر تساقط ذنوب العبد كما يتساقط ورق هذه الشجرة". رواه الترمذي. وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خشک پتوں والے درخت سے گزرے تو اس میں اپنی لاٹھی شریف ماری پتے جھڑ گئے ۱؎فرمایاالحمد لله،سبحان اللهاورلا الہ الا اللهاورالله اکبربندے کے گناہ یوں جھاڑ دیتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑگئے ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر ہے کہ وہ درخت جنگلی تھا جس کا کوئی مالک نہیں،اس کے پھل پھول پتے ہرشخص لے سکتا ہے اور ممکن ہے کسی کے گھر یا باغ کا درخت ہو،چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ کی جان و مال کے مالک ہیں اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بغیر اجازت درخت کے پتے جھاڑ دیئے ورنہ کسی کے مملوک درخت پر پتھر پھینکنا،لاٹھی سے اس کے پتے جھاڑنا ہمارے وا سطے ممنوع ہے کہ یہ دوسرے کی ملک میں تصرف ہے۔
۲
؎سبحان الله !کیا نفیس تشبیہ ہے یعنی گناہوں میں گرفتار انسان سوکھے ہوئے درخت کی طرح ہے اور اس کے گناہ مثل پتوں کے اور یہ کلمات گویا عصائے محبوبی ہیں،جس سے وہ گناہ جھڑتے رہتے ہیں۔اس میں صوفیانہ اشارہ اس جانب بھی ہے کہ یہ کلمات گناہوں سے اس وقت پاک کریں گے جب یہ کسی کامل کے ذریعہ کئے جائیں گے کیونکہ اگرچہ درخت میں لگی لاٹھی ہی تھی مگر حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ مبارک سے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2318