Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2322

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ هِيَ صَلَاةُ الْخَلَائِقِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَلِمَةُ الشُّكْرِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ كَلِمَةُ الإخْلَاصِ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ تَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: أَسْلَمَ وَاسْتَسْلَمَ. رَوَاهُ رَزِيْنٌ

وعن ابن عمر أنه قال: سبحان الله هي صلاة الخلائق، والحمد لله كلمة الشكر، ولا إله إلا الله كلمة الإخلاص، والله أكبر تملأ ما بين السماء والأرض، وإذا قال العبد: لا حول ولا قوة إلا بالله قال الله تعالى: أسلم واستسلم. رواه رزين

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایاسبحان اللهساری مخلوق کی عبادت ہے ۱؎اورالحمد للهکلمہ شکر ہے ۲؎اورلا الہ الا اللهاخلاص کا کلمہ ہے ۳؎اورالله اکبرآسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا ہے۴؎اور جب بندہ کہتا ہےلاحول ولا قوۃ الا باللهتورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہر مخلوق رب تعالٰی کی تسبیح بزبانقالکرتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"دوسری جگہ فرماتاہے:"قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہٗ وَتَسْبِیۡحَہٗ"۔حق یہ ہے کہ ہر چیز کو رب تعالٰی کی معرفت حاصل ہے اور وہ بزبانقالنہ کہ فقطحالسے تسبیح کرتی ہے اولیاء اللہ ان تسبیحوں کو سنتے ہیں،صحابہ کرام کھاتے وقت لقمے کی تسبیح سنتے تھے حتی کہ سبزہ کی تسبیح کی برکت سے عذاب قبر میں تخفیف ہوتی ہے۔
۲
؎یعنی شکر کا ستون ہے یا شکر کی چوٹی ہے جس کے بغیر شکر مکمل نہیں ہوتا۔(ازمرقات)
۳
؎لاالہ الا اللهسے مراد پورا کلمہ ہے،اخلاص سے مراد ہے چھٹکارا اور رہائی یعنی اس کلمہ طیبہ کی برکت سے بندہ دنیا میں کفر سے اور آخرت میں دوزخ سے رہائی پاتاہے یا اخلاص ریاء کا مقابل ہے،بمعنی خلوص نیت یعنی یہ کلمہ اگر خلوص نیت سے پڑھا جائے تو مفید ہے۔
۴
؎کہ اس کا ثواب اس کی عظمت ان تمام چیزوں کو بھر دیتی ہے یہ ہمیں سمجھانے کے لیے ہے کہ ہماری کوتاہ نظریں ان آسمان زمین تک ہی محدود ہیں،ورنہ رب تعالٰی کی کبریائی کے مقابل آسمان و زمین کی کیا حقیقت ہے یہ ایسےہے جیسے رب تعالٰی نے فرمایا کہ"لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ"حالانکہ اس کی ملکیت آسمان و زمین میں محدود نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2322