Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2305

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا مِنْ صَبَاحٍ يُصْبحُ الْعِبَادُ فِيْهِ إِلَّا مُنَادٍ يُنَادِي: سَبِّحُوا الْمَلِكَ القُدُّوْسَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن الزبير قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما من صباح يصبح العباد فيه إلا مناد ينادي: سبحوا الملك القدوس". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی کوئی صبح نہیں جسے بندے پائیں مگر ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ پاک بادشاہ کی تسبیح پڑھ لو ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہر صبح کو فرشتہ یہ آواز دیتا ہے کہ اس وقت تسبیح پڑھو یا آج دن بھر پڑھتے رہنا،چونکہ صبح کے وقت ہر مخلوق تسبیح کرتی ہے اس لیے خصوصیت سے انسانوں میں یہ اعلان ہوتا ہے کہ تماشرف المخلوقہو دوسری مخلوق سے پیچھے نہ رہو،نیز چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نداء ہم تک پہنچادی اس لیے فرشتہ کا پکارنا رائیگاں نہ گیا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب ہم فرشتے کی آواز سنتے ہی نہیں تو اس کے پکارنے سے کیا فائدہ۔بادشاہ کے فرمان عوام تک اخبارات،حکام وغیرہ کے ذریعے پہنچا کرتے ہیں۔تسبیح کرنے سے مراد یا تو مطلقًا کوئی سی تسبیح پڑھ لینا ہے یا یہ پڑھنا ہے"سبحان الملك القدوس"یا یہ پڑھناہے"سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَّبُّنَا وَ رَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ"یا یہ پڑھنا ہے"سبحان الله وبحمدہ سبحان الله العظیم(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2305