Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2312

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ سَبَّحَ اللّٰهَ مِئَةً بِالْغَدَاةِ وَمِئَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَجَّ مِائَةَ حَجَّةٍ، وَمَنْ حَمِدَ اللّٰهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كمَنْ حَمَلَ عَلٰى مِائَةِ فَرَسٍ فِيْ سَبِيلِ اللّٰهِ، وَمَنْ هَلَّلَ اللّٰهَ مِئَةً بِالْغَدَاةِ وَمِئَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ، وَمَنْ كَبَّرَ اللّٰهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ لَمْ يَأْتِ فِي ذٰلِكَ الْيَوْمِ أَحَدٌ بأَكْثَرَ مِمَّا أَتَى بِهٖ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ ذٰلِكَ أَوْ زَادَ عَلٰى مَا قَالَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من سبح الله مئة بالغداة ومئة بالعشي كان كمن حج مائة حجة، ومن حمد الله مائة بالغداة ومائة بالعشي كان كمن حمل على مائة فرس في سبيل الله، ومن هلل الله مئة بالغداة ومئة بالعشي كان كمن أعتق مائة رقبة من ولد إسماعيل، ومن كبر الله مائة بالغداة ومائة بالعشي لم يأت في ذلك اليوم أحد بأكثر مما أتى به إلا من قال مثل ذلك أو زاد على ما قال". رواه الترمذي. وقال: هذا حديث حسن غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو اللہ کے لیے صبح کو سو بارسبحان اللهپڑھے اور سو بار شام کو تو اس کی طرح ہوگا جو سو حج کرے ۱؎اور جو صبح کو سو بارالحمد للّٰہپڑھے اور سو بار شام کو تو اس جیسا ہوگا جو اللہ کی راہ میں سو گھوڑے خیرات کرے ۲؎اور جو صبح کو سو بارلاالہ الا اللهپڑھے اور سو بار شام کو تو اس کی طرح ہوگا جو اولاد حضرت اسماعیل سے سو غلام آزاد کرے ۳؎اور جو صبح کو سو بارالله اکبرپڑھے اور سو بار شام کو تو کوئی اس سے زیادہ نیکیاں اس دن نہ کرسکے گا بجز اس کے جو اتنی ہی بار یہ کلمات کہہ لے یا اس سے زیادہ۴؎ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی شروع دن میں سو بارسبحان اللهکہے اور شروع رات میں بھی سو بار تو اسے نفلی سو حجوں کے برابر ثواب ملے گا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ تسبیح سے مراد حضور دل کے ساتھ تسبیح پڑھنا ہے اور حج سے مراد وہ حج ہیں جو غفلت سے کئے جائیں۔ مطلب یہ ہے حضور قلبی کے ساتھ آسان نیکی غفلت کے مشکل اعمال سے افضل ہوتی ہے۔خیال رہے کہ حج کا ثواب ملنا اور ہے حج کی ادا کچھ اور،یہاں ثواب کا ذکر ہے نہ کہ ادائے حج کا جیسے اطباء کہتے ہیں کہ ایک گرم کئے ہوئے منقہ میں ایک روٹی کی طاقت ہے مگر پیٹ روٹی ہی سے بھرتا ہے،کوئی شخص دو وقت تین تین منقے کھا کر زندگی نہیں گزار سکتا۔واقعی ان تسبیحوں میں اتنا ہی ثواب ہے مگر حج ادا کرنے ہی سے ہوں گے۔جو رب باجرے کے ایک دانہ سے سات بالیاں دے سکتا ہے جن کے دانے ہماری شمار میں نہیں ہوتے وہ رب تسبیحوں پر اتنا ثواب بھی دے سکتا ہے۔اس قسم کے ثوابوں کا وعدہ قرآن کریم میں بھی کیا گیا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ"الخ یعنی جولوگ راہ خدا میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال اس دانہ کی طرح ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں ہر بالی سے سو دانے اور اللہ جسے چاہے اس سے بھی کہیں زیادہ عطا فرمائے گا اس قسم کی احادیث اور آیتوں کو مبالغہ یا جھوٹ سمجھنا بے دینی ہے،رب تعالٰی کی دین ہمارے خیال سے وراء ہے اسے روکنے والا کون ہے۔
۲
؎یعنی سو غازیوں کو جہاد کرنے کے لیے سو گھوڑے دے جو ان پر سوار ہوکر جہاد کریں۔خیال رہے کہ جہاد وغیرہ کا اصلی مقصد ذکراللہ کی اشاعت ہے،مؤمن ملک گیری کے لیے نہیں لڑتا بلکہ ذکر سے رکاوٹیں دور کرنے کے لیے لڑتا ہے اور حمد الٰہی یقینًا سو جہادوں سے افضل ہے کہ جہاد مقصود لغیرہٖ اور یہ مقصود لعینہٖ۔
۳
؎کہ دیگر غلاموں سے اولاد اسماعیل علیہ السلام کا آزاد کرنا افضل ہے۔مرقات نے فرمایا کہ اولاد اسمعیل سے مراد اہل عرب ہیں کہ وہ سب ان کی اولاد ہیں،چونکہ عرب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرب رکھتے ہیں اس لیے ان پر احسان کرنا افضل۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی اولاد خصوصًا سادات کرام سے سلوک کرنا بہتر ہے۔
۴
؎یہ حدیث تسبیح قادری کی اصل ہے،سلسلہ قادریہ میں روزانہ صبح شامسبحان اللهسو بار،الحمد للهسو بار،لا الہ الا اللهسو بار،الله اکبرسو بار پڑھا جاتا ہے یہ وظیفہ اس حدیث سے لیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2312