Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2297

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي: سُبْحَانَ اللّٰه وَبِحَمْدِهٖ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهٖ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من قال حين يصبح وحين يمسي: سبحان الله وبحمده مائة مرة لم يأت أحد يوم القيامة بأفضل مما جاء به إلا أحد قال مثل ما قال أو زاد عليه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صبح و شام کے وقتسبحان الله وبحمدہسو بار پڑھ لیا کرے ۱؎تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے بہتر عمل نہ لائے گا اس کے سوا جو اس طرح یا اس سے زیادہ پڑھا کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یا اس طرح کہ کچھ تو صبح کے وقت پڑھ لیا کرے کچھ شام کے وقت یا اس طرح کہ صبح کو سو بار پڑھے اور شام کو بھی یعنی روزانہ دو سو بار یہ ہی بہتر ہے۔صبح سے مراد پو پھٹنے سے زوال تک کا وقت ہے اور شام سے مراد زوال سے لے کر صبح صادق تک ہے۔صوفیاء کی اصطلاح میں شام و سویرے کے یہ ہی معنے ہوتے ہیں مگر عاملین کا طریقہ یہ ہے کہ بعد نماز فجر اور بعد نماز مغرب یہ پڑھا کرتے ہیں لہذا یہ ہی افضل ہے۔
۲
؎اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن نہ تو کوئی اس کے برابر نیکیاں لاسکے گا نہ اس سے زیادہ،ہاں جو کوئی اس کے برابر یہ کلمات پڑھ لیا کرے وہ تو اس کے برابر نیکیاں لائے گا یا جو اس شخص سے زیادہ یہ کلمات پڑھ لیا کرے وہ اس سے زیادہ نیکیاں لائے گا مثلًا یہ شخص روزانہ دو سو بار یہ کلمات پڑھتا ہے اور دوسرا چارسو بار پڑھ لیا کرے یا یہاں یہ لفظاَوْبمعنی واؤ ہے یعنی جوشخص اس شخص کے برابر بھی پڑھے اور اس سے زیادہ بھی لہذا حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ برابر پڑھنے والا اس شخص سے بڑھ کیوں گیا اور نہ یہ اعتراض ہے کہ وظیفوں کی تعداد میں زیادتی کمی نہ چاہیے جس قدر منقول ہوں اتنی ہی بار پڑھے جائیں جیسے فرض نماز کی رکعات اور زکوۃ کی مقدار۔خیال رہے کہ اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ جو پابندی سے یہ پڑھ لیا کرے اسے اللہ تعالٰی اس قدر نیکیوں کی توفیق بخشے گا کہ قیامت میں وہ دوسرے سے زیادہ نیکیاں لے کر آئے گا۔یہ مطلب نہیں کہ صرف یہ کلمات پڑھنے والا حاجیوں،نمازیوں،شہیدوں،علماء،مجتہدین،محدثین سے بڑھ جائے گا لہذا حدیث واضح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2297