Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2314

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا قَالَ عَبْدٌ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، مُخْلِصًا قَطُّ إِلَّا فُتِحَتْ لَهٗ أَبْوَابُ السَّمَاءِ حَتّٰى يُفْضِيَ إِلَى الْعَرْشِ مَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما قال عبد: لا إله إلا الله، مخلصا قط إلا فتحت له أبواب السماء حتى يفضي إلى العرش ما اجتنب الكبائر". رواه الترمذي. وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے بندہ کبھی خلوص دل سےلا الہ الا اﷲنہیں کہتا مگر اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں حتی کہ وہ کلمہ عرش تک پہنچ جاتا ہے جب تک کہ بندہ کبیرہ گناہوں سے بچا رہے ۱؎(ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎گناہ کبیرہ سے بچنے کی شرط کمال ثواب اور کمال قبولیت کے لیے ہے یعنی متقی مسلمان کا کلمہ اعلیٰ درجہ کا مقبول ہوتا ہے اور فاسق و فاجر کا کلمہ قبول تو ہوتا ہے لیکن اس درجہ کا نہیں،تمام ذکر مثل کارتو س ہیں اور ذاکر کی زبان مثل رائفل کے کہ شکار واقعی کارتوس کرتا ہے مگر رائفل کی طاقت سے،قلب کا اخلاص گویا بارود ہے کہ شکار گولی سے ہوگا مگر بارود کی امداد سے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ گناہ نیکی کو نہیں مٹاتا بلکہ نیکی گناہوں کو مٹا دیتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ"یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔متقی کی نیکی فساق کی نیکی سے افضل ہے بلکہ جیسا عامل کا درجہ ویسا ہی اس کے عمل کا ثواب، صحابہ کا ساڑھے چار سیر جو خیرات کرنا ہمارے پہاڑ بھر سونا خیرات کرنے سے افضل،کیوں ؟ اس لیے کہ وہ عامل افضل ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2314