Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2301

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جُوَيْرِيَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِيْنَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجَدِهَا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحٰى وَهِيَ جَالِسَةٌ قَالَ: "مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ عَدَدَ خَلْقِهٖ ، وَرِضَا نَفْسِهٖ ، وَزِنَةَ عَرْشِهٖ ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهٖ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جويرية: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- خرج من عندها بكرة حين صلى الصبح وهي في مسجدها ثم رجع بعد أن أضحى وهي جالسة قال: "ما زلت على الحال التي فارقتك عليها؟ " قالت: نعم، قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "لقد قلت بعدك أربع كلمات ثلاث مرات لو وزنت بما قلت منذ اليوم لوزنتهن: سبحان الله وبحمده عدد خلقه ، ورضا نفسه ، وزنة عرشه ، ومداد كلماته ". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جویریہ سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس سےگزرے جب کہ نماز فجر پڑھی وہ اپنی مسجد میں تھیں ۲؎پھر دوپہر کے بعد واپس ہوئے وہ وہاں ہی بیٹھی تھیں ۳؎فرمایا کیا تم اسی طرح بیٹھی ہو جیسے میں تمہیں چھوڑ گیا تھا عرض کیا ۴؎ہاں تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے پیچھے چار کلمے تین دفعہ پڑھ لیے ۵؎اگر انہیں تمہارے تمام وظیفوں سے تولا جائے جو تم نے سارے دن میں پڑھے تو ان پر بھاری ہوجائیں ۶؎"سبحان الله وبحمدہ عدد خلقہ ورضانفسہ وزنۃ عرشہ ومداد کلماتہ؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت جویریہ بنت حارث حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ ہیں،مسلمانوں کی والدہ،آپ کا نام برہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر جویریہ رکھا،آپ ۵ھ میں غزوہ مریسیع میں گرفتار ہوکر حضرت ثابت بن قیس کے حصہ میں آئیں انہوں نے آپ کو مکاتب کردیا ،ان کابدلِ کتابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا اور انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کیا ،۶۵ سال عمر شریف ہوئی ،ربیع الاول ۵۶ھ میں وفات پائی رضی اللہ عنہا۔
۲
؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بعد نماز فجر آپ کے دولت خانہ سے باہر تشریف لے گئے اسوقت آپ اپنے مصلے پر بیٹھی ہوئی ذکر الله اور وظیفہ پڑھ رہی تھیں،مسجد سے مراد مصلے ہے یعنی سجدہ گاہ یا وہ جگہ جو گھر میں نماز کے لیے خاص کرلی جائے۔
۳
؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نماز چاشت کے وقت (دوپہر کو) آپ کے پاس واپس آئے تو انہیں اسی مصلے پر اسی طرح بیٹھے دیکھا، الله اکبر یہ ہے ازواج پاک کا شوق عبادت۔
۴
؎خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پر اپنی نیکیاں ظاہرکرنا ریا نہیں بلکہ ذریعۂ قبولیت ہے،اسی طرح حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم سے اپنے گناہ عرض کرنا پردہ دری نہیں بلکہ معافی کا ذریعہ ہے۔
۵
؎یعنی ہم نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد یہ وظیفہ پڑھ لیا جو عمل میں بہت ہلکا اور آسان ہے۔
۶
؎یعنی اگر کل قیامت میں رب تعالٰی میزان کے ایک پلے میں تمہارا آج کا سارے دن کا یہ وظیفہ رکھے اور دوسرے پلے میں ہمارے یہ کلمات رکھے تو ثواب میں یہ کلمات بڑھ جائیں گے۔
۸
؎اس کا مطلب یہ ہے کہ میں رب تعالٰی کی ایسی تسبیح کرتا ہوں جو تمام مخلوق کے برابر ہو،اس کی رضاء کا باعث ہو،اس کے عرش کی زینت ہو اور کلمات الہیہ کی جو روشنائی ہے اس کے برابر ہو۔ان جامع الفاظ میں ساری چیزیں آگئیں کوئی چیز باقی نہ رہی لہذا یہ جامع وظیفہ ہے اس لیے اس کا اجربھی زیادہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2301