- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان
- حدیث نمبر 2303
باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2303
اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِيْ مُوْسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰه -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي سَفَرٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُوْنَ بِالتَّكْبِيرِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ! ارْبَعُوْا عَلٰى أَنْفُسِكُمْ،إِنَّكُمْ لَا تَدْعُوْنَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّكُمْ تَدْعُوْنَ سَمِيعًا بَصِيرًا وَهُوَ مَعَكُمْ، وَالَّذِي تَدْعُوْنَهٗ أَقْرَبُ إِلٰى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهٖ " قَالَ أَبُوْ مُوْسٰى: وَأَنَا خَلْفَهٗ أَقُوْلُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ فِي نَفْسِيْ فَقَالَ: "يَا عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ قَيْسٍ! أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى كَنْزٍ مِنْ كُنُوْزِ الْجَنَّةِ؟ " فَقُلْتُ: بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ قَالَ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عن أبي موسى الأشعري قال: كنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في سفر، فجعل الناس يجهرون بالتكبير، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم:"يا أيها الناس! اربعوا على أنفسكم،إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا، إنكم تدعون سميعا بصيرا وهو معكم، والذي تدعونه أقرب إلى أحدكم من عنق راحلته " قال أبو موسى: وأنا خلفه أقول: لا حول ولا قوة إلا بالله في نفسي فقال: "يا عبد الله بن قيس! ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة؟ " فقلت: بلى يا رسول الله قال: "لا حول ولا قوة إلا بالله". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو موسٰی اشعری سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو لوگ بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے ۱؎اس پر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے لوگو اپنی جانوں پر نرمی کرو ۲؎تم لوگ نہ بہرے کو پکارتے ہو نہ غائب کو تم تو سمیع بصیر کو پکاررہے ہو۳؎جو تمہارے ساتھ ہے جسے تم پکار رہے ہو وہ تم میں سے ہر ایک کی سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے ۴؎ابو موسٰی فرماتے ہیں کہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے تھا اپنے دل میں کہہ رہا تھالاحول ولا قوۃ الا باللهتو حضور نے فرمایا اے عبداللہ ابن قیس کیا میں تم کو جنت کے خزانوں میں ایک خزانہ پر رہبری نہ کروں میں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایاولاحول ولا قوۃ الا باللهہے ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎اس طرح کہ جوش کے ساتھ تکبیر کے نعرے لگانے لگے نعرہ تکبیراللهُ اَکْبَریہ نعرے برکت کے لیے تھے نہ کہ کسی خوشی کی وجہ سے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔یہ سفرغزوہ خیبر کا تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مع صحابہ کرام کے خیبر فتح فرمانے تشریف لے جارہے تھےجیساکہ دوسرے مقامات پر اس کی تصریح ہے۔
۲؎یہاں شیخ نے لمعات اور اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ اس نعرہ تکبیر سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا منع فرمانا اس لیے نہ تھا کہ ذکر بالجہر منع ہے بلکہ اس لیے تھا کہ صحابہ پر سفرکرتے ہوئے یہ نعرے تکلیف کا باعث تھے اسی لیے فرمایا اپنی جانوں پر نرمی کرو ورنہ بہت موقعہ پر صحابہ کرام بلکہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم خوب بلند آواز سے ذکر الٰہی کرتے تھے۔چنانچہ جماعتِ نماز کے بعد چیخ کر ذکر کرتے تھے،صحابہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے وعظ کے دوران نعرہ تکبیر لگاتے تھے،نیز اس سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ارادہ یہ تھا کہ خیبر پر ہم اچانک جا پڑیں لوگوں کو اس حملہ کی خبر بھی نہ ہوسکے تاکہ کفار تیاری نہ کرسکیں اور بہت کم خون خرابہ ہو اور خیبر فتح ہوجائے اس نعرہ سے یہ مقصد فوت ہوجاتا۔بہرحال ذکر بالجہر منع کرنے والوں کی یہ حدیث دلیل نہیں بن سکتی۔ذکر بالجہر کی پوری تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمائیے۔
۳؎یہاں ذکر بالجہر مفید نہیں،رب تعالٰی تو آہستہ ذکر بھی سنتا ہے بلکہ تمہیں نقصان دہ ہے کہ تم اس وقت ذکر سے تھک جاؤ گے اور تمہارا دشمن تمہاری آمد پر مطلع ہوجائے گا اس لیے آہستہ ذکر کرو۔
۴؎اس سے معلوم ہوا کہ اس لیے چیخ کر اللہ کا ذکر کرنا خدا تعالٰی آہستہ ذکر سن نہیں سکتا منع ہے بلکہ بدعقیدگی ہے۔ذکر بالجہر تو اپنے نفس اور دوسرے غافلوں کو جگانے،شیطان کو بھگانے،درو دیوار کو اپنے ایمان کا گواہ بنانے کے لیے ہوتا ہے مگر اس پر موقعہ پر مضر ہے۔خیال رہے کہ اللہ تعالٰی کے ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کا علم،قدرت،رحمت قریب ورنہ حق تعالٰی قرب مکانی سے پاک ہے،اس کی تفسیر وہ آیت ہے"اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیۡنَ"۔
۵؎یعنی تم جو اپنے دل میںلاحولشریف پڑھ رہے ہو ہم اس پر مطلع ہیں اس کے فضائل سے تم کو اطلاع دیتے ہیں۔خیال رہے کہلاحولشریف میں انسان اپنی انتہائی بے بسی کا اقرار اور رب تعالٰی کی انتہائی قدرت کا اعتراف کرتا ہے یہ ہی بندگی کا مدار ہے اسی لیے یہ جنت کا خزانہ ہے۔حولکے معنی ہیں ظاہری طاقت،قوۃکے معنی ہیں باطنی قدرت یاحولسے مراد ہے دفع شر کا حیلہ اورقوتسے مراد ہے خیرحاصل کرنے کا ذریعہ یعنی بندے میں بغیر رب تعالٰی کی مدد کے نہ ظاہری طاقت ہے نہ اندرونی قوت،اس کے بغیرکرم بندہ نہ گناہوں سے بچ سکتا ہے نہ نیکیاں کرسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دین،اس کے کرم سے بندہ میں ظاہری باطنی طاقتیں آسکتی ہیں جیساکہ اولیاءوانبیاء کے کرامات و معجزات سے معلوم ہوتا ہے۔حضرت سلیمان نے تین میل سے دور چیونٹی کی آوازسن کر سمجھ لی،حضرت آصف بن برخیا پل بھر میں یمن سے تخت بلقیس لے آئے یہ ربانی طاقتیں رحمانی عطا سے تھیں،بجلی کے بلب،پنکھے،مشین وغیرہ بغیر پاورمحض بیکار ہیں پاور آجائے تو بہت طاقتور ہوجاتے ہیں،بجلی کا تار آدمی کیا ہاتھی کو ہلاک کردیتا ہے۔قرآن کریم میں جومن دون اللهکی برائیاں آتی ہیں یہ وہی ہیں جو خدا سے الگ اور دور ہیں،رب تعالٰی نے فرمایا:"وَ وَجَدَ مِنۡ دُوۡنِہِمُ امْرَاَتَیۡنِ تَذُوۡدَانِ"یعنی موسیٰ علیہ السلام نے مردوں سے الگ دور دو عورتوں کو دیکھا جو اپنے جانور پکڑے کھڑی تھیں،دیکھودونکے معنی الگ یا دور ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کلموں کو خزانہ اسی لیے فرمایا کہ یہ کلمے جنتی نعمتوں کے خزانے ملنے کے سبب ہیں یا اللہ تعالٰی نے دوسری قوموں سے یہ کلمات ایسے چھپائے تھے جیسے خزانے غیروں میں چھپائے جاتے ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2303