Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2303

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ مُوْسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰه -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي سَفَرٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُوْنَ بِالتَّكْبِيرِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ! ارْبَعُوْا عَلٰى أَنْفُسِكُمْ،إِنَّكُمْ لَا تَدْعُوْنَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّكُمْ تَدْعُوْنَ سَمِيعًا بَصِيرًا وَهُوَ مَعَكُمْ، وَالَّذِي تَدْعُوْنَهٗ أَقْرَبُ إِلٰى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهٖ " قَالَ أَبُوْ مُوْسٰى: وَأَنَا خَلْفَهٗ أَقُوْلُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ فِي نَفْسِيْ فَقَالَ: "يَا عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ قَيْسٍ! أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى كَنْزٍ مِنْ كُنُوْزِ الْجَنَّةِ؟ " فَقُلْتُ: بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ قَالَ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي موسى الأشعري قال: كنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في سفر، فجعل الناس يجهرون بالتكبير، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم:"يا أيها الناس! اربعوا على أنفسكم،إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا، إنكم تدعون سميعا بصيرا وهو معكم، والذي تدعونه أقرب إلى أحدكم من عنق راحلته " قال أبو موسى: وأنا خلفه أقول: لا حول ولا قوة إلا بالله في نفسي فقال: "يا عبد الله بن قيس! ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة؟ " فقلت: بلى يا رسول الله قال: "لا حول ولا قوة إلا بالله". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسٰی اشعری سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو لوگ بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے ۱؎اس پر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے لوگو اپنی جانوں پر نرمی کرو ۲؎تم لوگ نہ بہرے کو پکارتے ہو نہ غائب کو تم تو سمیع بصیر کو پکاررہے ہو۳؎جو تمہارے ساتھ ہے جسے تم پکار رہے ہو وہ تم میں سے ہر ایک کی سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے ۴؎ابو موسٰی فرماتے ہیں کہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے تھا اپنے دل میں کہہ رہا تھالاحول ولا قوۃ الا باللهتو حضور نے فرمایا اے عبداللہ ابن قیس کیا میں تم کو جنت کے خزانوں میں ایک خزانہ پر رہبری نہ کروں میں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایاولاحول ولا قوۃ الا باللهہے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ جوش کے ساتھ تکبیر کے نعرے لگانے لگے نعرہ تکبیراللهُ اَکْبَریہ نعرے برکت کے لیے تھے نہ کہ کسی خوشی کی وجہ سے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔یہ سفرغزوہ خیبر کا تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مع صحابہ کرام کے خیبر فتح فرمانے تشریف لے جارہے تھےجیساکہ دوسرے مقامات پر اس کی تصریح ہے۔
۲
؎یہاں شیخ نے لمعات اور اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ اس نعرہ تکبیر سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا منع فرمانا اس لیے نہ تھا کہ ذکر بالجہر منع ہے بلکہ اس لیے تھا کہ صحابہ پر سفرکرتے ہوئے یہ نعرے تکلیف کا باعث تھے اسی لیے فرمایا اپنی جانوں پر نرمی کرو ورنہ بہت موقعہ پر صحابہ کرام بلکہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم خوب بلند آواز سے ذکر الٰہی کرتے تھے۔چنانچہ جماعتِ نماز کے بعد چیخ کر ذکر کرتے تھے،صحابہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے وعظ کے دوران نعرہ تکبیر لگاتے تھے،نیز اس سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ارادہ یہ تھا کہ خیبر پر ہم اچانک جا پڑیں لوگوں کو اس حملہ کی خبر بھی نہ ہوسکے تاکہ کفار تیاری نہ کرسکیں اور بہت کم خون خرابہ ہو اور خیبر فتح ہوجائے اس نعرہ سے یہ مقصد فوت ہوجاتا۔بہرحال ذکر بالجہر منع کرنے والوں کی یہ حدیث دلیل نہیں بن سکتی۔ذکر بالجہر کی پوری تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمائیے۔
۳
؎یہاں ذکر بالجہر مفید نہیں،رب تعالٰی تو آہستہ ذکر بھی سنتا ہے بلکہ تمہیں نقصان دہ ہے کہ تم اس وقت ذکر سے تھک جاؤ گے اور تمہارا دشمن تمہاری آمد پر مطلع ہوجائے گا اس لیے آہستہ ذکر کرو۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ اس لیے چیخ کر اللہ کا ذکر کرنا خدا تعالٰی آہستہ ذکر سن نہیں سکتا منع ہے بلکہ بدعقیدگی ہے۔ذکر بالجہر تو اپنے نفس اور دوسرے غافلوں کو جگانے،شیطان کو بھگانے،درو دیوار کو اپنے ایمان کا گواہ بنانے کے لیے ہوتا ہے مگر اس پر موقعہ پر مضر ہے۔خیال رہے کہ اللہ تعالٰی کے ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کا علم،قدرت،رحمت قریب ورنہ حق تعالٰی قرب مکانی سے پاک ہے،اس کی تفسیر وہ آیت ہے"اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیۡنَ
۵
؎یعنی تم جو اپنے دل میںلاحولشریف پڑھ رہے ہو ہم اس پر مطلع ہیں اس کے فضائل سے تم کو اطلاع دیتے ہیں۔خیال رہے کہلاحولشریف میں انسان اپنی انتہائی بے بسی کا اقرار اور رب تعالٰی کی انتہائی قدرت کا اعتراف کرتا ہے یہ ہی بندگی کا مدار ہے اسی لیے یہ جنت کا خزانہ ہے۔حولکے معنی ہیں ظاہری طاقت،قوۃکے معنی ہیں باطنی قدرت یاحولسے مراد ہے دفع شر کا حیلہ اورقوتسے مراد ہے خیرحاصل کرنے کا ذریعہ یعنی بندے میں بغیر رب تعالٰی کی مدد کے نہ ظاہری طاقت ہے نہ اندرونی قوت،اس کے بغیرکرم بندہ نہ گناہوں سے بچ سکتا ہے نہ نیکیاں کرسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دین،اس کے کرم سے بندہ میں ظاہری باطنی طاقتیں آسکتی ہیں جیساکہ اولیاءوانبیاء کے کرامات و معجزات سے معلوم ہوتا ہے۔حضرت سلیمان نے تین میل سے دور چیونٹی کی آوازسن کر سمجھ لی،حضرت آصف بن برخیا پل بھر میں یمن سے تخت بلقیس لے آئے یہ ربانی طاقتیں رحمانی عطا سے تھیں،بجلی کے بلب،پنکھے،مشین وغیرہ بغیر پاورمحض بیکار ہیں پاور آجائے تو بہت طاقتور ہوجاتے ہیں،بجلی کا تار آدمی کیا ہاتھی کو ہلاک کردیتا ہے۔قرآن کریم میں جومن دون اللهکی برائیاں آتی ہیں یہ وہی ہیں جو خدا سے الگ اور دور ہیں،رب تعالٰی نے فرمایا:"وَ وَجَدَ مِنۡ دُوۡنِہِمُ امْرَاَتَیۡنِ تَذُوۡدَانِ"یعنی موسیٰ علیہ السلام نے مردوں سے الگ دور دو عورتوں کو دیکھا جو اپنے جانور پکڑے کھڑی تھیں،دیکھودونکے معنی الگ یا دور ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کلموں کو خزانہ اسی لیے فرمایا کہ یہ کلمے جنتی نعمتوں کے خزانے ملنے کے سبب ہیں یا اللہ تعالٰی نے دوسری قوموں سے یہ کلمات ایسے چھپائے تھے جیسے خزانے غیروں میں چھپائے جاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2303