Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2300

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَيُّ الْكَلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "مَا اصْطَفَى اللّٰهُ لِمَلَائِكَتِهٖ : سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي ذر قال: سئل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أي الكلام أفضل؟ قال: "ما اصطفى الله لملائكته : سبحان الله وبحمده ". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کون سا کلام افضل ہے فرمایا جو اللہ تعالٰی نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب فرمایاسبحان الله وبحمدہٖ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سارے فرشتے ہمیشہ یہ پڑھا کرتے"سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِہٖ"اسی لیے فرشتوں نے عرض کیا تھا"نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ"فرشتوں کاہمیشہ یہ پڑھنا اللہ تعالٰی کی تعلیم سےہے نہ کہ اپنی رائےسے۔ قرآن کریم میں ہے"لَاعِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا"یعنی یہ کلمات بہت افضل ہیں کیونکہ یہ فرشتوں کا ذکر ہے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ان فرشتوں کی عبادات کو بھی جانتے ہیں اور ان کے حالات سے بھی خبردار ہیں جو آسمانوں میں رہتے ہیں عرشی ہوں یا کرسی والے لہذا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو فرش والے انسانوں کے اعمال کی بھی یقینًا خبرہے۔دوسرے یہ کہ جو وردو وظیفے بزرگوں سے منقول ہوں وہ دوسرے وظیفوں سے افضل ہیں،دیکھو فرشتوں کے وظیفے افضل قرار دیا گیا،ایک اعتبار سے فرشتے عام انسانوں سے افضل ہیں۔اگرچہ انسانیت ماہیۃً فرشتہ سے افضل ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2300