Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2299

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَّاصٍ: قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "أَيَعْحِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ " فَسَأَلَهٗ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهٖ : كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ: "يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيْحَةٍ، فَيُكْتَبُ لَهُ الفُ حَسَنَةٍ، أَوْ يُحَطُّ عَنهُ أَلْفُ خَطِيْئَةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَفِي كتَابِهٖ فِي جَمِيْعِ الرِّوَايَاتِ عَنْ مُوْسَى الْجُهَنِيِّ: "أَوْ يُحَطُّ" قَالَ أَبُوْ بِكْرٍ البِرْقَانِي: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَأَبُوْ عَوَانَةَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيْدٍ الْقطَّانُ عَنْ مُوْسٰى فَقَالُوْا: "ويُحَطُّ" بِغَيْر ألِفٍ، هٰكَذَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ.

وعن سعد بن أبي وقاص: قال: كنا عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: "أيعحز أحدكم أن يكسب كل يوم ألف حسنة؟ " فسأله سائل من جلسائه : كيف يكسب أحدنا ألف حسنة؟ قال: "يسبح مائة تسبيحة، فيكتب له الف حسنة، أو يحط عنه ألف خطيئة". رواه مسلم.
وفي كتابه في جميع الروايات عن موسى الجهني: "أو يحط" قال أبو بكر البرقاني: ورواه شعبة وأبو عوانة ويحيى بن سعيد القطان عن موسى فقالوا: "ويحط" بغير ألف، هكذا في كتاب الحميدي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں ہم رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تھے تو حضور نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کر لیا کرے ہم نشینوں میں سے کسی نے پوچھا کہ کوئی روزانہ ہزار نیکیاں کیسے کرسکتا ہے ۱؎فرمایا ایک سو دفعہسبحان اللهپڑھ لیا کرے اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کی ہزار خطائیں معاف کی جائیں گی ۲؎(مسلم)اس کتاب مسلم میں ابو موسٰی جھنی سے تمام روایات میں یوں ہے کہ یا معاف کی جائینگی ۳؎ابوبکر برقانی فرماتے ہیں ۴؎کہ اسے شعبہ و ابوعوانہ اور یحیی ابن سعید قطان نے حضرت موسیٰ سے روایت کی ان سب نےویحطفرمایا الف کے بغیر (کتاب حمیدی میں اسی طرح ہے)۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسلسل روزانہ ایک ہزار نیکیاں کرتے رہنا طاقت انسانی سے باہر ہے،یہ عام انسانوں کا حال ہے ورنہ بعض مخصوص بندے تو ہر سانس میں نیکی کرتے ہیں۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہاںاَوْبمعنی واؤ ہے یعنی سو بارسبحان اللهپڑھ لینے سے پڑھنے والوں کو ہزار نیکیاں بھی ملیں گی اور اس سے ہزار گناہ بھی معاف ہوں گے اور اگراَوْاپنے ہی معنی میں ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ رب تعالٰی کے کرم پرموقوف ہے چاہے تو اسے ہزار نیکیاں دے چاہے اس کے ہزار گناہ معاف کردے۔خطیئتہسے معلوم ہوا کہ گناہ صغیرہ معاف ہوں گے حقوق العباد اور گناہ کبیرہ کی معافی اس سے نہ ہوگی۔
۳
؎یعنی مسلم شریف میں حضرت موسیٰ جُہنّی سے بہت سی روایات منقول ہیں ان سب میںاَوْہے،یہ موسٰی جہنی ابن عبدالله ہیں، قبیلہ جہنیہ سے ہیں،کوفی ہیں،انہوں نے حضرت مجاہد مصعب ابن سعد سے روایات لیں اور ان سے شعبہ،یحیی ابن سعید قطان نے احادیث نقل کیں۔
۴
؎آپ ابوبکر احمد ابن محمد خوارزمی برقانی ہیں،برقان خوارزم کی ایک بستی کا نام ہے۔
۵
؎یعنی ان روایات میںاَوْنہیں بلکہ واؤ ہے یعنی اس کو ہزار نیکیاں بھی ملتی ہیں اور اس کے ہزار گناہ بھی معاف ہوتے ہیں لیکن اگر پہلی روایت میںاَوْبمعنی واؤ ہو یا یہاں واؤ تنویع یعنی بیان نوعیت کے لیے ہو تو دونوں روایتوں میں کوئی فرق نہیں اور ہوسکتا ہے کہ پہلی روایت میں رب تعالٰی کے قانون کا ذکر ہو اور اس روایت میں اس کے فضل و کرم کا رب تعالٰی فرماتاہے:"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَادوسرے مقام پر فرماتاہے:"وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2299