Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2313

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰه بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "اَلتَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ يَمْلَؤُهٗ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ لَيْسَ لَهَا حِجَابٌ دُوْنَ اللّٰهِ حَتّٰى تَخْلُصَ إِلَيْهِ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالْقَوِيِّ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "التسبيح نصف الميزان، والحمد لله يملؤه، ولا إله إلا الله ليس لها حجاب دون الله حتى تخلص إليه"رواه الترمذي. وقال: هذا حديث غريب وليس إسناده بالقوي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہسبحان اللهآدھی میزان ہے اورالحمد للّٰہاسے بھردے گی ۱؎اورلا الہ الا اللهکے لیے رب سے کوئی آڑ نہیں سیدھا اس تک پہنچتا ہے ۲؎(ترمذی) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد قوی نہیں۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میزان کی نیکی کا پلہ آدھاسبحان اللهسے بھردے گا اور آدھاالحمد للّٰہسے،یہ دونوں کلمے ملکر اسے پورا بھردیں گے کیونکہ اللہ کے ذکر دو قسم کے ہیں:تنزیہہ اورتحمیدسبحان اللهمیں تنزیہہ ہے یعنی رب تعالٰی کو سارے عیوب سے پاک جاننا اورالحمد للّٰہمیں تحمید یعنی اسے تمام کمالات سے موصوف ماننا۔میزان تو ان دو کلموں سے ہی بھرگئی،باقی نیکیاں زیادہ بچیں جن کا ثواب علاوہ ہوگا۔خلاصہ یہ ہے کہ ان دو کلموں نے سارے گناہوں کو تو ختم کردیا کہ سب گناہوں کے مقابلہ میں تویہ دو کلمے ہی کافی ہوگئے باقی نیکیاں نفع میں بچیں۔
۲
؎اس میں اشارۃً فرمایا کہلا الہ الااللهان دو کلموں سے بھی افضل ہے،کیوں نہ ہو کہ یہ ساری تنزیہہ و تحمید کو شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کلمہ طیبہ بہت جلد قبول ہوتا ہے،براہ راست رب تعالٰی تک پہنچتا ہے جس قدر ہمارا اخلاص زیادہ اسی قدر کلمے کی قبولیت اعلٰی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ کلمہ تو منافقین بھی پڑھتے تھے تو کیا وہ مقبول بارگاہ تھے۔
۳
؎مرقات نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد واقعی ضعیف ہے مگر چونکہ اس میں حرام و حلال کے احکام مذکور نہیں صرف کلمہ طیبہ کے فضائل کا بیان ہے اس لیے مقبول ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2313