Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2317

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَّاصٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُوْلِ اللّٰه -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: عَلِّمْنِي كَلَامًا أَقُوْلُهٗ قَالَ: "قُلْ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ، اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا، وَ سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ". فَقَالَ: فَهَؤُلَاءِ لِرَبِّيْ فَمَا لِيْ؟ فَقَالَ: "قُلْ: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي". شَكَّ الرَّاوِي فِي "عَافِنِيْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن سعد بن أبي وقاص قال: جاء أعرابي إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: علمني كلاما أقوله قال: "قل: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، الله أكبر كبيرا، والحمد لله كثيرا، و سبحان الله رب العالمين، لا حول ولا قوة إلا بالله العزيز الحكيم". فقال: فهؤلاء لربي فما لي؟ فقال: "قل: اللهم اغفر لي وارحمني واهدني وارزقني وعافني". شك الراوي في "عافني". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک بدوی حاضر ہوئے بولے مجھے کوئی وظیفہ سکھائیے جو میں پڑھ لیا کروں ۱؎فرمایا کہو اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں،اللہ بہت ہی بڑا ہے، اللہ کی بہت حمد ہے، اللہ پاک ہے،جہانوں کا پالنے والا، اللہ غالب حکمت والے کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قوت وہ بولے یہ تو رب کے لیے ہوئے میرے لیے کیا ہے ۲؎فرمایا یوں کہو الٰہی مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما،مجھے ہدایت دے،مجھے روزی دے۳؎مجھے امن نصیب کر ۴؎راوی کوعَافِنِیمیں کچھ شک ہے ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎بطور وظیفہ نمازوں کے بعد یا ویسے ہی اوقات مقررہ میں۔معلوم ہوا کہ مشائخ سے وظیفے پوچھنا اور ان کی اجازت حاصل کرنا سنت ہے کہ اجازت سے خاص تاثیر پیدا ہوجاتی ہے ثواب حاصل کرنے کے لیے کسی اجازت وغیرہ کی ضرورت نہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ علاوہ نماز و تلاوت قرآن کے اور ورد و ظیفے بھی کرنے چاہئیں ۔نماز و تلاوت تو روحانی غذائیں ہیں اور یہ وظیفے روحانی میوے،غذا اور میوے دونوں ہی فائدہ مندہیں۔
۲
؎سبحان الله !کیسے مزے کا سوال ہے یعنی یا حبیب اللہ ان الفاظ میں رب تعالٰی کی حمد تو ہوگئی کچھ دعائیہ کلمے نہ آئے میں اس کی حمدبھی کرنی چاہتا ہوں اور اس سے بھیک مانگنی بھی۔
۳
؎یعنی میرے گناہ بخش دے،مغفرت فرما،مجھ پر رحم کر کہ مجھے اطاعتوں کی توفیق دے،اچھی زندگی گزارنے کی توفیق دے،ہدایت دے،مجھے حلال روزی عطا فرما۔۴؎یعنی مجھے ایسی مصیبت میں گرفتار نہ کر جس کا انجام میرے لیے برا ہو۔(مرقات) عافیت کے یہ معنی نہایت نفیس ہیں اصل عافیت معصیت سے امن ہے۔
۵
؎غالبًا راوی سے مراد صحابی ہوں یعنی اسناد کے آخری راوی۔ہوسکتا ہے کہ کوئی اور راوی مراد ہوں ان میں یہ شک ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نےعَافِنِیْفرمایا یا نہیں،بہتر یہ ہے کہعَافِنِیْبھی پڑھا جائے ممکن ہے کہ یہ بھی دعا کا جز ہو عافیت میں دین و دنیا کی ساری امتیں داخل ہیں،یوسف علیہ السلام نے معصیت کے مقابل مصیبت اختیار فرمائی کہ عرض کیا"رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ"کیونکہ معصیت کے مقابلے میں مصیبت عافیت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2317