Main Icon

باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3745

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا أُعْطِيْكُمْ وَلَا أَمْنَعُكُمْ، أَنَا قَاسِمٌ أَضَعُ حَيْثُ أُمِرْتُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما أعطيكم ولا أمنعكم، أنا قاسم أضع حيث أمرت". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے میں نہ تم کو دیتا ہوں اور نہ تم کو منع کرتا ہوں ۱؎میں تو تقسیم کرتا ہوں۲؎وہاں رکھتا ہوں جہاں حکم دیا جاتا ہوں۳؎(بخاری)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎حضور صلی اللہ علیہ و سلم مجاہدین کو غنیمت سے کچھ مال بطور انعام تقسیم فرماتے تھے اس میں مساوات و برابری نہ کرتے تھے بلکہ کسی کو کم کسی کو زیادہ حسب خدمت عطا فرماتے تھے شاید کسی کو شکایت ہوتی کہ ہم کو کم ملا اس لیے حضور نے یہ ارشاد فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ اس فرمان میںماسے مراد مال،ایمان،علم عرفان وغیرہ سب ہی ہوں۔
۲
؎یعنیکی تمام نعمتوں کا بانٹنے والا میں ہوںتعالٰی کی عطا اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تقسیم بغیر قید کے ہے،ہر نعمت رب تعالٰی دینے والا ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم بانٹنے والے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: "اَغْنٰہُمُ اللّٰہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"انہیںرسول نے اپنے فضل سے غنی فرما دیانے دے کر حضور نے پہنچا کر غنی کردیا۔
۳
؎یعنی ہمارا دینا یا نہ دینا،نیزکم و بیش دینا اپنے نفس کے عمل سے نہیں،نفسانی نہیں بلکہ رحمانی ہے جیسے ہمارا ہر کلام وحی الٰہی سے ہے ایسے ہی ہمارے کام وحی الٰہی سے ہیں۔معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا دروازہ، دروازۂ الٰہی ہے۔
بخدا خدا کا یہ ہی ہے در نہیں اور کوئی مفر مقر جو وہاں سے ہو یہیں آکے ہو جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں
خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم رب تعالٰی کی نعمتوں کے بااختیار قاسم ہیں بے اختیار قاسم نہیں،ڈاکیہ بے اختیار قاسم ہے اور وزیر اعظم بااختیار قاسم اور بااختیار قاسم سے مانگنا جائز ہے،
تعالٰی نے حضرت سلیمان سے فرمایا:"فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیۡرِ حِسَابٍ"اور حضرت ذوالقرنین سے فرمایا:"اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ تَتَّخِذَ فِیۡہِمْ حُسْنًا"نیز جناب سلیمان کے متعلق فرمایا:"فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیۡحَ تَجْرِیۡ بِاَمْرِہٖ"اور ہمارے حضور سے فرمایا"فَاۡذَنۡ لِّمَنۡ شِئْتَ مِنْہُمْ"۔معلوم ہوا کہ رب نے حضرت سلیمان کو دینے نہ دینے کا ذوالقرنین کو سزا اور انعام دینے کا اختیار دیا۔حضرت سلیمان کے حکم سے ہوا چلتی تھی،ہمارے حضور کو اجازت دینے نہ دینے کا اختیار دیا ہے لہذاکی ہر نعمت حضور سے مانگنی جائز ہے کہ حضور باذن الٰہی مختار قاسم ہیں۔
۴
؎حاکم نے بروایت حضرت ابوہریرہ روایت کیانا ابوالقاسم اﷲ یعطی وانا اقسمہم ابوالقاسم ہیںدیتا ہے ہم تقسیم فرماتے ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3745