Main Icon

باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3747

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُوْ بَكْرٍ قَالَ: لَقَدْ عَلِمَ قَوْمِيْ أَنَّ حِرْفَتِيْ لَمْ تَكُنْ تَعْجزُ عَنْ مُؤْنَةِ أَهْلِيْ، وَشُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِيْنَ، فَسَيَأْكُلُ آلُ أَبِيْ بَكْرٍ مِنْ هٰذَا الْمَالِ، وَيَحْتَرِفُ لِلْمُسْلِمِيْنَ فِيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن عائشة قالت: لما استخلف أبو بكر قال: لقد علم قومي أن حرفتي لم تكن تعجز عن مؤنة أهلي، وشغلت بأمر المسلمين، فسيأكل آل أبي بكر من هذا المال، ويحترف للمسلمين فيه. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابوبکر خلیفہ بنائے گئے تو فرمایا کہ میری قوم جانتی ہے کہ میرا پیشہ میرے گھر والوں کے خرچ سے ناکافی نہ تھا ۱؎اور میں مسلمانوں کے کام میں مشغول کردیا گیا ہوں تو ابوبکر کی اولاد اس مال سے کھائے گی اور اس میں مسلمانوں کی خدمت کرے گی ۲؎(بخاری) ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ بننے سے پہلے بڑے کامیاب تاجر تھے،آپ مکہ معظمہ میں غنی ترین لوگوں میں سے تھے،رب تعالٰی ان کے متعلق فرماتاہے:"وَ لَا یَاۡتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنۡکُمْ وَ السَّعَۃِ"۔معلوم ہوا کہ آپ بزرگی والے بھی ہیں وسعت مال والے بھی اور وسعت دل والے بھی۔خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کپڑے کے تاجر تھے، جناب عمر غلے کے تاجر،حضرت عثمان گندم اور کھجوروں کے تاجر اور حضرت عباس عطر کے تاجر تھے۔بہترین تجارت کپڑے کی ہے، پھرعطر کی۔حدیث شریف میں ہے کہ اگر تم اہل جنت کا پیشہ کرنا چاہتے ہوتو کپڑے کی تجارت کرو۔(مرقات و لمعات واشعہ)
۲
؎یعنی اب میں بارِ خلافت اٹھالینے کی وجہ سے تجارتی کاروبار نہیں کرسکتا،چونکہ میں نے مسلمانوں کی خدمت، ملکی انتظامات اور جہاد وغیرہ کی تیاریوں کے لیے اپنے کو وقف کردیا ہے اس لیے اب میں اور میرے عیال بیت المال سے خرچ کریں گے،میری تنخواہ بیت المال سے ہوگی اتنی جتنی میرے گھر والوں کو کافی ہو۔اس حدیث کی بنا پر علماء متاخرین فرماتے ہیں کہ امام،مؤذن،دینی مدرس، مفتی،قاضی کی تنخواہیں اوقاف سے ادا ہوسکتی ہیں اور ان لوگوں کو ان خدمات کی تنخواہ لینا درست ہے کہ اگریہ لوگ طلب معاش میں پھنس گئے تو دین ختم ہوجائے گا سوائے حضرت عثمان کے تمام خلفاء راشدین نےتنخواہیں لی ہیں بلکہ غریب طلباء دین اور غریب مدرسین کو زکوۃ دینے کا حکم قرآن کریم نے دیا ہے،فرماتاہے:"اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ ضَرْبًا
۳
؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ جناب صدیق اکبر نے اپنی تنخواہ حسب ذیل مقرر فرمائی جو آپ بیت المال سے لیتے تھے۔مسلمانو سنو اورغورکرو! دو مدغلہ،تھوڑا تیل،کچھ سالن،گرمیوں میں ایک چادر اور ایک تہبند،سردیوں میں ایک پشمینہ کی پوستین گویا اس زمانہ کے لحاظ سے چھ سات روپیہ ماہوار کا سامان،کیوں نہ ہوتا کہ اس سلطان کونین سید الزاہدین صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہیں جن کی شان یہ ہے۔شعر
بوریا ممنون خواب راحتش تاج کسرے زیر پائے امتش
اس فقیر نے حضرت عمروصدیق اکبر کے مکانات دیکھے تھے جو اب گرادیئے گئے وہ ایسے مکانات تھے کہ آج غریب سے غریب آدمی کا مکان بھی ان سے بڑا ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3747