Main Icon

باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3748

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلٰى عَمَلٍ، فَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا، فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَهُوَ غُلُوْلٌ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

عن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من استعملناه على عمل، فرزقناه رزقا، فما أخذ بعد ذلك فهو غلول". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ ۱؎سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جسے ہم کسی کام پر لگادیں پھر ہم اسے معاوضہ دے دیں تو اس کے بعد جو کچھ لے گا وہ خیانت ہے۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ بریدہ ابن خصیب اسلمی ہیں،بدر سے پہلے ایمان لائے مگر بدر میں حاضر نہ ہوئے،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ میں قیام رہا،پھر بصرہ میں پھر خراسان میں غازی ہوکر رہے، یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں ۶۲ھ؁ ∞ میں وفات ہوئی۔
۲
؎یعنی اپنی تنخواہ کے علاوہ جو کچھ چھپا کرلے گا وہ چوری و خیانت ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3748