Main Icon

باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3751

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِابْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلًا فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهٗ خَادِمٌ فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهٗ مَسْكَنٌ فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا". وَفِيْ رِوَايَةٍ: "مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذٰلِكَ فَهُوَ غَالٌّ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن المستوردابن شداد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "من كان لنا عاملا فليكتسب زوجة، فإن لم يكن له خادم فليكتسب خادما، فإن لم يكن له مسكن فليكتسب مسكنا". وفي رواية: "من اتخذ غير ذلك فهو غال". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مستورد ابن شداد سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو ہمارا عامل بنے چاہیے کہ بیوی کرلے پھر اگر اس کے خادم نہ ہو تو چاہیئے کہ خادم رکھ لے اگر اس کے پا س مکان نہ ہو تو مکان بنالے ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ جو اس کے علاوہ لے گا وہ خائن ہوگا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎شارحین نے اس حدیث کے معنے یہ کیے ہیں عامل،حاکم بیت المال سے روپیہ لے کر نکاح بھی کرسکتا ہے،غلام بھی خرید سکتا ہے یا نوکر بھی رکھ سکتا ہے، اپنے لئے گھر بھی بنا سکتا ہے مگر یہ حکم اس زمانہ کا ہے جب کہ عامل کی ماہوار یا سالانہ تنخواہ مقرر نہ ہو اور بیت المال میں ان خرچوں کے نکالنے کی گنجائش ہو،حکام کی تبدیلی نہ ہوئی ہو،ایک حاکم ایک جگہ مستقل رہتا ہو،وہ عامل صحابہ کرام کی طرح دیانتدار ہوکہ صرف بقدر ضرورت ہی خرچ کرے زیادہ ایک پیسہ بھی نہ لے لیکن اگر حاکم کو آج کل کی طرح باقاعدہ تنخواہ ملتی ہو تو ان میں سے کوئی خرچ بیت المال سے نہ لے۔اب حکومتیں بعض حکام کو کوٹھی،ملازم کی تنخواہ بلکہ سرکاری دورہ کے مصارف بھی دیتی ہیں،نیز اگر حاکم کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے تو وہ ہر جگہ بیت المال(خزانہ)سے اپنی کوٹھیاں نہ بنوائے لہذا ان حالات میں اب ان چیزوں کی ا جازت نہ ہوگی۔
۲
؎یعنی ایسا حاکم اگر خزانہ کے خرچ پر ایک سے زیادہ نکاح کرے یا ایک سے زیادہ خادم و نوکر رکھے یا قدر ضرورت سے زیادہ مکان بنوائے تو خائن ہے،نیز غیرضروری خرچ کے لیے خزانہ سے کچھ نہ لے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3751