Main Icon

باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3746

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خَوْلَةَ الأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ رِجَالًا يَتَخَوَّضُوْنَ فِيْ مَالِ اللّٰهِ بِغَيْرِ حَقِّ، فَلَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن خولة الأنصارية قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن رجالا يتخوضون في مال الله بغير حق، فلهم النار يوم القيامة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خولہ انصاریہ سے ۱؎فرماتی ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بعض لوگکے مال میں ناحق گھس جاتے ہیں۲؎ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خولہ دو ہیں:ایک خولہ بنت ثامر،دوسری خولہ بنت ثعلبہ حضرت اوس ابن صامت کی بیوی،یہاں پہلی خولہ مراد ہیں خولہ بنت ثامر، مرقات کی یہ ہی تحقیق ہے مگر اشعۃ اللمعات نے دوسری خولہ مراد لیں۔واﷲ اعلم!۲؎خوض کے لغوی معنی پانی میں گھس جانا،اصطلاح میں کسی باطل کام میں مشغول ہوجانے کو خوض کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: "ذَرْہُمْ فِیۡ خَوْضِہِمْ یَلْعَبُوۡنَ"باب تفعیل میں آکر مبالغہ پیدا ہوگیا۔کے مال سے مراد بیت المال کا مال ہے،زکوۃ، خراج،جزیہ،غنیمت وغیرہ۔ حق سے مراد ہے یا استحقاق یا سلطان اسلام کی اجازت یعنی بیت المال میں ان کا حق نہیں اور وہ لے لیتے ہیں یا حق کم ہے وہ زیادہ لے لیتے ہیں۔
۳
؎ناحق مال کھانے کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3746