Main Icon

باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3752

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ! مَنْ عُمِّلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلٰى عَمَلٍ، فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهٗ فَهُوَ غَالٌّ، يَأْتِيْ بِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! اقْبَلْ عَنِّيْ عَمَلَكَ، قَالَ: "وَمَا ذَاكَ؟ " قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُوْلُ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: "وَأَنَا أَقُوْلُ ذٰلِكَ،مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلٰى عَمَلٍ؛ فَلْيَأْتِ بِقَلِيْلِهٖ وَكَثِيْرِه فَمَا أُوْتيَ مِنْهُ أَخَذَهٗ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهٰى". رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَاللَّفْظُ لَهٗ.

وعن عدي بن عميرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "يا أيها الناس! من عمل منكم لنا على عمل، فكتمنا منه مخيطا فما فوقه فهو غال، يأتي به يوم القيامة" فقام رجل من الأنصار فقال: يا رسول الله ! اقبل عني عملك، قال: "وما ذاك؟ " قال سمعتك تقول: كذا وكذا، قال: "وأنا أقول ذلك،من استعملناه على عمل؛ فليأت بقليله وكثيره فما أوتي منه أخذه، وما نهي عنه انتهى". رواه مسلم، وأبو داود، واللفظ له.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عدی ابن عمیرہ ۱؎سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے لوگو تم میں سے جو کوئی ہمارے کام پر عامل بنایا گیا ۲؎پھر اس میں سے سوئی اور اس کے اوپر کوئی چیز ہم سے چھپائی تو وہ خائن ہے قیامت کے دن وہ لائے گا ۳؎تو ایک انصاری صاحب کھڑے ہوکر بولے یارسولمجھ سے اپنا عمل (نوکری)لے لیجئے ۴؎فرمایا یہ کیا عرض کیا کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا فرمایا یہ تو میں کہتا ہوں کہ ہم جسے کسی کام پر عامل بنائیں تو وہ تھوڑا اور بہت حاضر کردے ۵؎پھر اس میں سے اسے جو دیا جائے وہ لے لے ۶؎اور جس سے منع کیا جائے اس سے باز رہے۔(مسلم،ابوداؤد)اور لفظ ابوداؤد کے ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،کندی حضرمی ہیں،کوفہ میں رہے پھر وہاں سے جزیرہ کی طرف منتقل ہوگئے،وہاں ہی وفات ہوئی۔
۲
؎صدقہ وصول کرنے پر عامل بنایا گیا یا کہیں کا حاکم مقرر ہوا۔
۳
؎اس طرح کہ خیانت کا مال اس کے سر پر ہوگا اور قیامت کے دن رسوا ہوگا جیسے زکوۃ نہ دینے والے کا مال خود مالک پر سوار ہوگا جس سے اسے تکلیف بھی ہوگی اور رسوائی بھی،یہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ رب تعالٰی قیامت میں اس امت کے چھپے ہوئے گناہ چھپائے گا،علانیہ گناہ اور بعض دوسرے گناہ جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے ظاہر فرمادے گا لہذا یہ حدیث ان پردہ پوشی کی احادیث کے خلاف نہیں۔
۴
؎ان انصاری کا نام معلوم نہ ہوسکا،یہ کسی جگہ عامل مقرر ہوکر جارہے تھے یہ وعید سن کر اپنے میں اتنی احتیاط کی قوت نہ دیکھی انہوں نے استعفیٰ پیش کیا۔
۵
؎اس کلام کی تکرار مبالغہ اور تاکید کے لیے ہے کہ تم خواہ عمل قبول کرو یا نہ کرو حکم تو یہ ہی رہے گا۔
۶
؎یہ اس صورت میں ہے کہ تنخواہ مقرر نہ ہو سلطان خود اس کے عمل اور اجرت کا اندازہ لگا کر دے،منع کیے جانے سے مراد نہ دیناہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3752