Main Icon

باب:نذروں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3426

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَنْذُرُوا، فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ من الْبَخِيلِ". مُتَّفَقٌ عَلَيهِ.

عن أبي هريرة وابن عمر قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا تنذروا، فإن النذر لا يغني من القدر شيئا، وإنما يستخرج به من البخيل". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور ابن عمر سےفرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نذر نہ مانا کرو ۱؎کیونکہ نذر تقدیر سے کچھ دفع نہیں کرتی بلکہ اس کے ذریعہ کنجوس سے کچھ دلوایا جاتا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بات بات پر نذر مان لینے کے عادی نہ بنو کہ پھر نذر پوراکرنا مشکل و بھاری معلوم ہوتا ہے یا نذر میں یہ اعتقاد نہ رکھو کہ نذر سے ارادۂ الٰہی و حکم ربانی بدل جاتا ہے کہ یہ عقیدہ غلط ہے یا صدقہ و خیرات صرف نذر کی صورت میں ہی نہ کیا کروکہ جب کوئی اٹکا تو نذر مانی اور کام نکل جانے پر خیرات کی بلکہ یوں ہی صدقہ کرنے کی بھی عادت ڈالو لہذا یہ نذر سے ممانعت نہیں بلکہ ان چیزوں سے ممانعت ہے لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں جن میں نذر پوری کرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذْرِ"اور حضرت حنہ کا واقعہ بیان فرمایا ہے:"اِنِّیۡ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطْنِیۡ"اور حضرت مریم کو نذر کا حکم دینا بیان فرماتاہے:"اِنِّیۡ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا"صحابہ کرام نے نذریں مانی ہیں لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہلا تنذروانہی ہے اور نہی حرمت پیدا کرتی ہے تو چاہیے کہ نذر ماننا حرام ہو اور حرام کا پورا کرنا واجب تو کیا مباح بھی نہیں ہوتا غرضکہ حدیث صاف ہے۔
۲
؎یعنی کنجوس لوگ ویسے خیرات نہیں کرتے بلکہ مصیبت پڑ جانے پر معاوضہ کی شکل میں خیرات کرتے ہیں،سخی لوگ ہر حال میں خیرات کرتے رہتے ہیں،وہ رب تعالٰی کی رضا کے لیے خیرات کرتے ہیں نہ کہ کسی معاوضہ اور بدلہ میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3426