Main Icon

باب:نذروں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3444

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "النَّذْرُ نَذْرَانِ: فَمَنْ كَانَ نَذَرَ فِي طَاعَةٍ فَذَلِكَ لِلَّهِ فِيهِ الْوَفَاءُ، وَمَنْ كَانَ نَذَرَ فِي مَعْصِيَةٍ فَذَلِكَ لِلشَّيْطَانِ وَلَا وَفَاء فِيهِ وَيُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

عن عمران بن حصين قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "النذر نذران: فمن كان نذر في طاعة فذلك لله فيه الوفاء، ومن كان نذر في معصية فذلك للشيطان ولا وفاء فيه ويكفره ما يكفر اليمين". رواه النسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا نذریں دو ہیں ۱؎تو جوکوئی فرمانبرداری کی نذر مانے تو یہ نذر اکے لیے ہے اس میں وفا لازم ہے۲؎اور جو گناہ کی نذر مانے تو یہ نذرشیطان کے لیے ہے اور اس کی وفا نہیں۳؎اس کا کفارہ وہ ہی بنے گا جوقسم کا کفارہ بنتا ہے۴؎(نسائی)

شرح حدیث

۱؎یعنی دو قسم کی ہیں اور ہرقسم کے تحت بہت سی قسمیں ہیں۔
۲
؎یعنی عبادت کی نذر سے رب تعالٰی راضی ہے اوراس کا پوراکرنا واجب ہے جیسے حج یا صدقہ یا روزہ یا نوافل کی نذر۔
۳
؎یعنی ایسی نذر سے شیطان خوش ہوتا ہے اسے ہرگز پورا نہ کرے جیسے ظلمًا قتل،ماں باپ کی نافرمانی یا نماز روزہ چھوڑ دینے کی نذر کہ شیطان تو ایسی حرکتیں کرانا ہی چاہتا ہے جب بندہ اس کی نذر مان لیتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے کہ میرا منشا پورا ہوا۔
۴
؎یعنی گناہ کی نذر کی ادا نہیں مگر ادا نہ کرنے پرکفارہ واجب ہے۔خیال رہے کہ احناف اور امام مالک کے ہاں کافر کی نذر لازم نہیں نہ زمانہ کفر میں نہ مسلمان ہوکر۔کافر خواہ گناہ کی نذر مانے خواہ نیکی کی جیسے بت پرستی کی نذر یا صدقہ و خیرات کی نذر،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّہُمْ لَاۤ اَیۡمٰنَ لَہُمْ"۔امام شافعی واحمد کے ہاں اگر کافرنے نیکی کی نذر مانی بعد میں مسلمان ہوگیا تو پوری کرے،ان کی دلیل رب تعالٰی کا فرمان ہے:"وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ"اور وہ حدیث ہے کہ حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول امیں نے اسلام لانے سے پہلے مسجد حرام میں ایک دن اعتکاف کی نذر مانی تھی فرمایا پوری کرو،امام اعظم کے ہاں یہ حکم استحبابی ہے اور اس آیت سے قسم سے مراد صورت قسم ہے،امام اعظم کا قول قوی ہے کیونکہ امام شافعی بھی کافر کی اس نذر توڑنے پر کفارہ واجب نہیں مانتے اور نذر کا واجب ہونا بغیر کفارہ درست نہیں۔(ازمرقات وغیرہ)خیال رہے کہ کفار کے مقدمات میں ان سے قسم لی جائے گی کہ وہ اپنے اعتقاد میں جھوٹی قسم بری جانتے ہیں،اس بنا پر ان کی قسم لینے کا مقصد درست ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3444