Main Icon

باب:نذروں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3439

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ: أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً قَالَ: "يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ". رَوَاهُ رَزِينٌ.

وعن أبي لبابة: أنه قال للنبي صلى الله عليه وسلم : إن من توبتي أن أهجر دار قومي التي أصبت فيها الذنب، وأن أنخلع من مالي كله صدقة قال: "يجزئ عنك الثلث". رواه رزين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو لبابہ سے ۱؎کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ میری توبہ سے یہ ہے کہ میں اپنی قوم کی جگہ چھوڑ دوں جہاں میں نے یہ گناہ کیا ۲؎اور یہ ہے کہ اپنے سارے مال سے علیٰحدہ ہوجاؤں صدقہ کرتےہوئے فرمایا تمہیں تہائی کافی ہے۳؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام رفاعہ ابن عبدالمنذر ہے مگر کنیت میں مشہور ہیں،انصاری اوسی ہیں،مدینہ پاک کے نقیبوں میں سے تھے،غزوۂ بدر میں حاضر نہ ہوئے،انہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ پاک میں رہنے وہاں انتظام کرنے کا حکم دیا اور غنیمت بدر میں سے ان کو حصہ عطا فرمایا،علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی۔(مرقات،اشعہ،اکمال)
۲
؎حضرت ابو لبابہ کے بال بچے بنی قریظہ یہود کے محلہ میں رہتے تھے اسی وجہ سے ابولبابہ کے تعلقات یہود بنی قریظہ سے تھے،غزوہ خندق کے بعد جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی قریظہ کا محاصرہ فرمایا جو پچیس دن رہا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ابولبابہ کو بھیج دیجئے تاکہ ہم ان سے مشورہ کرلیں۔چنانچہ حضور نے ابولبابہ کو وہاں بھیج دیا،وہ لوگ ابولبابہ کو دیکھ کر مردوعورتیں روئے آہ و فغاں کرنے لگے جس سے ابولبابہ کا دل بھر آیا ان یہود نے پوچھا کہ اگر ہم اپنے قلعوں سے اتر آئیں تو ہم سے کیا برتاؤ کیا جائے گا تو ابولبابہ نے اپنے حلق پر انگلی پھیرکر اشارۃً بتایا کہ تم سب قتل کئے جاؤ گے،اشارہ کرتے ہی نادم ہوئے سوچنے لگے کہ میں نے ارسول کی خیانت کی تب انہوں نے اپنے کو مسجد نبوی کے ایک ستون سے بندھوا لیا اور بولے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہوگی میں بندھا رہوں گا،حضور نے فرمایا کہ اگر ابولبابہ میرے پاس آجاتے تو میں ان کے لیے دعائے مغفرت کردیتا وہ براہ راست رب تعالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے اب جب تک وہ حکم نہ دیگا میں نہ کھولوں گا،چنانچہ آپ سات دن بندھے رہے ہر نماز کے وقت آپ کی بیٹی آتی کھول دیتی اور نماز باجماعت پڑھ لیتے پھر بندھ جاتے،کھانا پینا چھوٹ گیا تب ان کی توبہ قبول ہوئی،آپ نے فرمایا کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ہاتھ سے کھولیں تو کھولوں گا چنانچہ حضور نے اپنے ہاتھ سے کھولا اس ستون کا نام استوانہ توبہ بھی ہے استوانہ ابو لبابہ بھی۔اب بھی حجاج وہاں کھڑے ہوکر توبہ کرتے ہیں۔کھلنے کے بعد آپ نے عرض کیا کہ میں محلہ چھوڑ دوں گا جہاں رہنے کی وجہ سے یہ گناہ ہوا اور اپنا سارا مال خیرات کردوں گا توبہ کی خوشی میں۔
۳
؎یہ منت و نذر نہ تھی بلکہ قبول توبہ کے شکریہ میں صدقہ کرنے کا ارادہ تھا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف تہائی خیرات کرنے کی اجازت دی۔صوفیاءکرام فرماتے ہیں کہ گناہ کرکے صدقہ دینا کہ اس صدقے کی برکت سے گناہ کا اثر دل سے جاتا رہے بہتر ہے ان کی دلیل یہ ہی حدیث ہے۔(مرقات)اب بھی مفتی صاحبان بعض موقعہ پر صدقہ کا حکم دے دیتے ہیں اس حدیث کی وجہ سے۔خیال رہے کہ بابا فرید الدین گنج شکر جو بارہ سال کنویں میں لٹک کر عبادت کرتے رہے کہ سواء نماز کے اوقات کے کسی وقت کنویں سے باہر نہ آتے اور نماز پڑھتے ہی پھر وہاں لٹک جاتے،اس کا ماخذ یہ حدیث بن سکتی ہے،مرقات نے یہاں فرمایا کہ ابولبابہ نے سات دن کچھ نہ کھایاحتی کہ غشی طاری ہوگئی،بینائی بہت کم ہوگئی،صوفیاء کے فقر فاقہ،ترکِ غذا وغیرہ اسی سے ثابت ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ترک سکونت کی اجازت دی،ترمیم صرف صدقے میں فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3439