Main Icon

باب:نذروں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3438

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جده: أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ قَالَ: "أَوْفِي بِنَذْرِكِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وَزَادَ رَزِينٌ: قَالَتْ: وَنَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، مَكَانٌ يَذْبَحُ فِيهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ: "هَلْ كَانَ بِذَلِكَ الْمَكَانِ وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟ " قَالَتْ: لَا، قَالَ: "هَلْ كَانَ فِيهِ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟ " قَالَت: لَا، قَالَ: "أَوْفِي بِنَذْرِكِ".

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده: أن امرأة قالت: يا رسول الله! إني نذرت أن أضرب على رأسك بالدف قال: "أوفي بنذرك". رواه أبو داود.
وزاد رزين: قالت: ونذرت أن أذبح بمكان كذا وكذا، مكان يذبح فيه أهل الجاهلية فقال: "هل كان بذلك المكان وثن من أوثان الجاهلية يعبد؟ " قالت: لا، قال: "هل كان فيه عيد من أعيادهم؟ " قالت: لا، قال: "أوفي بنذرك".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ ایک عورت نے عرض کیا یارسول امیں نے نذر مانی تھی کہ حضور کے سامنے دف بجاؤں ۱؎فرمایا اپنی نذر پوری کرلو ۲؎(ابوداؤد)اور رزین نے یہ اور زیادہ کیا کہ بولی اور میں نے یہ نذر مانی تھی کہ فلاں فلاں جگہ جانور ذبح کروں جہاں جاہلیت والے ذبح کرتے تھے۳؎تو فرمایا کیا اس جگہ جاہلیت کے بتوں سے کوئی بت تھا جس کی پوجا ہوتی ہو؟بولی نہیں،فرمایا کیا وہاں ان کے میلوں میں سے کوئی میلہ لگتا تھا بولیں نہیں،فرمایا اپنی نذر پوری کرو۴؎

شرح حدیث

۱∞؎سرکار صلی اللہ علیہ و سلم کسی خطرناک غزوہ میں تشریف لے گئے تھے جہاں کفار کی یلغار زیادہ تھی تب ان بی بی صاحبہ نے نذر مانی تھی کہ جب حضور بخیریت مدینہ منورہ تشریف لائیں تو آپ کے سامنے دف بجاؤں،دف بجانا کوئی عبادت نہیں اس لیے مسئلہ پوچھا کہ یہ نذر درست ہے یا نہیں،دف دال کے فتح سے بھی ہے اور دال کے پیش سے بھی،پیش زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
۲
؎اس لیے کہ اگرچہ دف بجانا عبادت نہیں مگر حضور کی تشریف آوری پر خوشی کا اظہاربھی عبادت ہے اور کفارکو جلانا بھی عبادت ہے،دف بجانے میں یہ دونوں باتیں ہیں۔(مرقات و اشعہ)لہذا جوشخص میلادشریف،یا گیارھویں شریف کی نذرمانے وہ ضرور پوری کرے کہ یہ حضور کی ولادت کی خوشی منانے کی نذر ہے۔مرقات نے فرمایا کہ نکاح میں اعلان کے لیے دف بجانا اس لیے ثواب ہے کہ اس میں نکاح کی خوشی،نکاح کا اعلان، زنا و نکاح کے درمیان فرق ہے۔چنانچہ ان بی بی صاحبہ نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے دف بجائی،جنگ احد کا واقعہ دوسرا ہے وہاں ایک لونڈی نے دف بجانے کی نذر مانی تھی۔
۳
؎مگر وہاں کوئی بت یا میلہ نہ تھا اتفاقًا ذبح کرتے تھے یا کسی اور مقصد کے لیے۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ فقط کفار کا کسی جگہ جانور ذبح کرنا مؤمن کی نذر کے لیے مانع نہیں،جو مانع ہے وہ کچھ اور ہے یعنی بت کی موجودگی یا کفار کا میلہ کہ ان دونوں صورتوں میں ان سے تشبیہ ہے اور اس تیسری صورت میں جو یہاں پیش ہے محض کفار کے ساتھ اشتراک عمل ہے،تشبیہ بالکفار حرام یا کفر ہے اشتراک درست۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3438