Main Icon

باب:نذروں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3442

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَن عَبْدِ اللَّه بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتٍ لَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ فَقَالَ: "مُرُوهَا فَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَرْكَبْ وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن عبد الله بن مالك: أن عقبة بن عامر سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن أخت له نذرت أن تحج حافية غير مختمرة فقال: "مروها فلتختمر ولتركب ولتصم ثلاثة أيام". رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن مالک سے کہ عقبہ ابن عامر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اپنی بہن کے متعلق دریافت کیا ۱؎جنہوں نے نذر مانی تھی کہ ننگے پاؤں بغیر دوپٹہ حج کریں گی ۲؎فرمایا انہیں حکم دے دو کہ دوپٹہ اوڑھیں اور سوار ہو جائیں اور تین دن روزہ رکھیں۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ، دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎عبداابن مالک کی کنیت ابوتمیم ہے،جیشانی ہیں،تابعی ہیں،حضرت عمر و ابوذرغفاری وغیرہ رضی اللہ عنہم سے ملاقات ہے اور عقبہ ابن عامر جہنی صحابی ہیں۔
۲
؎یعنی مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ تک حج کرنے پیدل ننگے پاؤں ننگے سر جائیں گی۔خیال رہے کہ عورت کے لیے ننگے سر نکلنا گناہ ہے کہ بے پردگی بلکہ ستر کھولنا ہے گناہ کی نذرمنعقد تو ہوجاتی ہے مگر اس کا پورا کرنا حرام ہوتا ہے،کفارہ واجب ننگے پاؤں پیدل چلنا جائز ہے جس کی نذر منعقد ہوجاتی ہے،یہ مذہب ہے امام اعظم کا،دوسرے ائمہ کے ہاں ان کاموں کی نذر منعقد ہی نہیں ہوتی،یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔
۳
؎حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو دوپٹہ اوڑھنے کا حکم اس لیے دیا کہ عورت کا ننگے سر نکلنا گناہ ہے،عورت کا سر ستر ہے،سوار ہونے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ پیدل چلنے سے عاجزتھیں،تین روزے یا تو اس نذر کا کفارہ ہے یا ہدی کے عوض ہے جیساکہ پہلےگزرا۔اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ تین روزے حج کے زمانہ میں رکھیں،ساتویں،آٹھویں،نویں،بقر عید کے اور سات روزے گھر آکر"تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ"یہ حکم قرآن ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3442