Main Icon

باب:نذروں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3431

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ: "مَا بَالُ هَذَا؟ " قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ" وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى شيخا يهادى بين ابنيه فقال: "ما بال هذا؟ " قالوا: نذر أن يمشي قال: "إن الله تعالى عن تعذيب هذا نفسه لغني" وأمره أن يركب. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلا جارہا تھا ۱؎تو فرمایا اس کا کیاحال ہے لوگوں نے عرض کیا کہ انہوں نے پیدل چلنے کی منت مانی ہے۲؎فرمایا اتعالٰی اس کے اپنے نفس کو عذاب دینے سے غنی ہے اور اسے سوار ہوجانے کا حکم دیا۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی چلنے پر قادر نہ تھا اس لیے اپنے دو بیٹوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے گھسٹتا ہوا جارہا تھا۔
۲
؎یعنی پیدل حج کرنے کی کہ میقات سے یا حرم شریف سے عرفات تک،پھر وہاں سے حرم شریف تک پیدل چلوں گا۔خیال رہے کہ جو شخص پیدل حج کرنے کی نذر مانے اس پر واجب ہے کہ اپنے گھر سے پیدل جائے اور حج کرے،بعض نے فرمایا کہ میقات سے پیدل چلے،بعض کے نزدیک مقام احرام سے اگر پیدل نہ چلا سوار ہوگیا تو اس پر قربانی یعنی دم واجب ہے کہ اس نے حج کا ایک واجب چھوڑ دیا جو اس نے خود واجب کرلیا تھا۔
۳
؎اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں پیدل حج کرنے کی نذر مانے اور سوار ہوکر حج کرے اس پر کوئی کفارہ وغیرہ نہیں کہ یہ نذر درست ہی نہیں مگر امام اعظم اور خود امام شافعی کا دوسرا قول یہ ہے کہ وہ شخص دم یعنی قربانی دے کہ اس نے اپنے حج کا واجب ترک کیا اور ترک واجب سے قربانی واجب ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3431