Main Icon

باب:نذروں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3430

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَقْعُدَ،وَلَا يَسْتَظِلَّ، وَلَا يَتَكَلَّمَ وَيَصُومَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن ابن عباس قال: بينا النبي صلى الله عليه وسلم يخطب إذا هو برجل قائم، فسأل عنه، فقالوا: أبو إسرائيل نذر أن يقوم ولا يقعد،ولا يستظل، ولا يتكلم ويصوم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "مروه فليتكلم وليستظل وليقعد وليتم صومه". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا دیکھا ۱؎حضور نے اس کے متعلق پوچھا لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو اسرائیل ہے ۲؎اس نے نذر مانی ہے کہ کھڑا رہے نہ بیٹھے گا نہ سایہ لے گا نہ کلام کرے گا۳؎اور روزے رکھے گا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے حکم دو کہ کلام کرے سایہ لے لے اور بیٹھ جائے ۴؎اور اپنا روزہ پورا کرلے۔ (بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ سب لوگ بیٹھ کر خطبہ سن رہے تھے مگر یہ صاحب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کھڑے ہوکر سن رہے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ پڑھنا کھڑے ہوکر سننا بیٹھ کر سنت اسی لیے تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کھڑے ہونے پر تعجب فرمایا۔
۲
؎یہ حضرت بنی عامر لوی کی اولاد سے تھے،قریش کے ایک خاندان سے،ان کانام ابو اسرائیل ہی تھا۔
۳
؎یعنی نماز کے علاوہ کسی وقت نہ بیٹھے گا اورکسی انسان سے کلام نہ کرے گا،یہ مطلب نہیں کہالتحیاتمیں بھی نہ بیٹھے گا اور نماز میں تلاوت وغیرہ بھی نہ کرے گا،عادات کی نفی ہے عبادات کی نفی نہیں۔
۴
؎یعنی خاموش رہنا سایہ میں نہ بیٹھنا کوئی عبادت نہیں بلکہ حرام ہے کیونکہ نماز میں قرأۃ فرض ہے اورالتحیاتمیں بیٹھنا واجب بھی ہے فرض بھی،اس طرح ہمیشہ کھڑا رہنا طاقت انسانی سے باہر ہے یہ نذر توڑ دے مگر روزہ چونکہ عبادت ہے اس لیے اسے پورا کرے۔خیال رہے کہ ابو اسرائیل نے ہمیشہ کھڑے رہنے ہمیشہ خاموش رہنے سایہ میں نہ بیٹھنے روزہ رکھنے کی نذر مانی تھی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلی نذریں توڑنے کا حکم دیا مگر روزے کی نذر پوری کرنے کی تاکید فرمائی جوکو ئی ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مانے وہ سال میں پانچ حرام روزوں کے سواء تمام دن روزے رکھے اور ان پانچ دن روزے نہ رکھنے کی وجہ سے کفارہ دے،نذر کا کفارہ وہ ہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے،امام شافعی کے ہاں ان دونوں کی نذر درست ہی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3430