Main Icon

باب:نذروں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3441

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ ابْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، وَأَنَّهَا لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْي أُخْتِكَ، فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِأبِي دَاوُدَ: فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْكَبَ وَتُھدِيَ هَدْيًا، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ اللّٰهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا فَلْتَرْكَبْ ولْتَحُجَّ وَتُكَفِّرْ يَمِينَهَا"

وعن ابن عباس: أن أخت عقبة ابن عامر نذرت أن تحج ماشية، وأنها لا تطيق ذلك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "إن الله لغني عن مشي أختك، فلتركب ولتهد بدنة". رواه أبو داود والدارمي.
وفي رواية لأبي داود: فأمرها النبي صلى الله عليه وسلم أن تركب وتھدي هديا، وفي رواية له: فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "إن الله لا يصنع بشقاء أختك شيئا فلتركب ولتحج وتكفر يمينها"

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے کہ عقبہ ابن عامر کی بہن نے نذر مانی کہ پیدل حج کریں ۱؎اور وہ اس کی طاقت نہ رکھتی تھیں تو فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اتعالٰی تمہاری بہن کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے وہ سوار ہوجائیں اور ایک ہدی لے جائیں۲؎(ابو داؤد،دارمی)اور ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سوار ہوجائیں اور ہد ی لے جائیں۳؎اور ان کی ایک روایت میں ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اتعالٰی تمہاری بہن کی اس مشقت سے کچھ نہ کرے گا۴؎وہ سوار ہوجائیں،حج کرلیں اور اپنی قسم کا کفارہ دیں ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ پیدل جاکر حج کریں۔
۲
؎امام شافعی کے ہاں بدنہ صرف اونٹ کو کہتے ہیں،امام اعظم کے ہاں بدنہ میں اونٹ و گائے بکری سب شامل ہیں یعنی ڈیل دار جانور۔
۳
؎بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ ہدی کا حکم استحبابی ہے اس صورت میں اس پر کفارہ قسم یا کفارہ نذر واجب ہے مگر حضرت علی فرماتے ہیں کہ اس صورت میں ہدی واجب ہے۔
۴
؎شقاءبمعنی مشقت ہے سعادت کا مقابل نہیں یعنی اس کے معنے بدبختی کم نصیبی نہیں۔مطلب یہ ہے کہ تمہاری بہن کی اس مشقت سے رب تعالٰی خوش نہیں۔
۵
؎کفارہ سے مراد کفارہ قباحۃ حج ہے ہدی یا اس کے قائم مقام دس روزے لہذا یہ عبارت گزشتہ عبارت کے خلاف نہیں مگرچونکہ یہ کفارہ اس نذر کی بنا پر واجب ہوا لہذا اسے نذرکی طرف منسوب فرمادیا گیا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3441