Main Icon

باب:غیرمقرر سزا کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3630

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِيْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي بردة بن نيار عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا يجلد فوق عشر جلدات إلا في حد من حدود الله". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبردہ ابن نیار سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتےہیں کہ دس۱۰ کوڑوں سے زیادہ نہ لگائے جائیں مگرکی مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی سزا میں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضرت براء ابن عازب کے ماموں ہیں،بیعت عقبہ میں حاضرتھے،بدر اورتمام غزوات میں شریک رہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تمام جنگوں میں حاضر رہے، ۴۵ھ؁ ∞ میں وفات ہوئی۔(اشعہ ومرقات)
۲
؎ہمارے ہاں یہ حدیث منسوخ ہے،امام مالک کے ہاں زمانہ نبوی سے مخصوص ہے۔بہتر یہ ہے کہ حاکم انتالیس کوڑے تک تعزیر لگا سکتا ہے یعنی غلام کی سزاءقذف چالیس کوڑے ہے اس سے کم رکھے،امام ابو یوسف کے نزدیک پچھتر کوڑے تک لگاسکتا ہے یعنی آزاد کی سزا تہمت اسی۸۰ کوڑے ہے اس سے کم رکھے،یہ استحبابی حکم ہے ورنہ اگر ضروری سمجھے تو حد سے زیادہ بھی لگائے۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معن ابن زائدہ کو دھوکا دہی کی سزا میں ایک سو کوڑے لگائے اور قید بھی کیا کچھ روز کے بعد ایک سو کوڑے اور لگائے، کچھ دن بعد ایک سو کوڑے اور لگائے غرضکہ صحابہ کرام کے یہ عمل بتارہے ہیں کہ حدیث منسوخ ہے۔ (مرقات)یہ گفتگو اس صورت میں ہے کہ قاضی جنس حد سے سزا دے اور اگر دوسری جنس سے سزا دے تو تعزیر میں قتل بھی جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3630