Main Icon

باب:غیرمقرر سزا کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3631

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيتَّقِ الْوَجْهَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا ضرب أحدكم فليتق الوجه". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی مارے تو چہرے سے بچے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تعزیر یا حد میں جب کوڑے لگائے تو مجرم کو منہ پر نہ لگائے تاکہ اس کا منہ بگڑ نہ جائے،انسان کی زینت منہ سے ہے،حضور فرماتے ہیں کہتعالٰی نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا یعنی اپنی پسندیدہ صورت پر مگر رجم میں یہ حکم نہیں کہ وہاں تو پتھروں سے ہلاک کردینا ہے پتھر جہاں بھی لگے۔خیال رہے کہ منہ میں آنکھ ناک کان بھی شامل ہیں اور اس سے قریب ہی سربھی ہے جس میں مغز ہے اگر چہرے پر مار پڑے تو خطرہ ہے کہ مجرم اندھا بہرا یا دیوانہ ہوجائے،اس فرمان عالی میں ہزار ہاحکمتیں ہیں۔ہم نے بعض متقی استادوں کو دیکھا کہ وہ شاگرد کی پیٹھ پر چپت وغیرہ مارتے ہیں منہ پر تھپڑ نہیں مارتے اسی حکم عالی کی بنا پر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3631