Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5566

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الجنَّةِ إِذا أَنَا بِنَهْرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ،قُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، فَإِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "بينا أنا أسير في الجنة إذا أنا بنهر حافتاه قباب الدر المجوف،قلت: ما هذا يا جبريل؟ قال: هذا الكوثر الذي أعطاك ربك، فإذا طينه مسك أذفر". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب ہم جنت میں سیر فرما رہے تھے تو ایک نہر پر پہنچے جس کے کناروں پر کھکل موتی کے خیمے تھے ۱∞؎ہم نے کہا اے جبریل یہ کیا ہے انہوں نے عرض کیا یہ وہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا فرمایا اس کی مٹی خالص مشک تھی ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ شبِ معراج کا ہے جب حضور نے سارا عالم غیب دیکھا۔غالبًا یہ وہ ہی نہر ہے جو حوض کوثر سے نکل کر محشر کی طرف پہنچائی جائے گی۔۲؎کوثر کے معنی ہیں خیرکثیر،حوض کوثر بھی اس کی ایک فرد ہے حضور کے بے شمار فضائل،حضور کے اہلِ بیت اطہار،علماء،اولیاء سب ہی کوثر میں داخل ہیں،یہاں حوض کوثر کو کوثر فرمایا گیا۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5566