Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5579

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ " فَيَقُولُونَ: هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ "وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: " فَيَقُولُ هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ تَعْرِفُونَهُ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ إِلَّا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ بِالسُّجُودِ وَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ اتِّقَاءً وَرِيَاءً إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ ظَهْرَهُ طَبَقَةً وَاحِدَةً كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ خَرَّ عَلَى قَفَاهُ ثُمَّ يُضْرَبُ الْجِسْرُ عَلَى جَهَنَّمَ وَتَحِلُّ الشَّفَاعَةُ وَيَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ فَيَمُرُّ الْمُؤْمِنُونَ كَطَرَفِ الْعَيْنِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ وَكَالطَّيْرِ وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُرْسَلٌ وَمَكْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ حَتَّى إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ أحد مِنْكُم بأشدَّ مُناشدةً فِي الْحق - قد تبين لَكُمْ - مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِلَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ فِي النَّارِ يَقُولُونَ رَبَّنَا كَانُوا يَصُومُونَ مَعَنَا وَيُصَلُّونَ وَيَحُجُّونَ فَيُقَالُ لَهُمْ: أَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ فَتُحَرَّمُ صُوَرَهُمْ عَلَى النَّارِ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا مَا بَقِيَ فِيهَا أَحَدٌ مِمَّنْ أَمَرْتَنَا بِهِ. فَيَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وجدْتُم فِي قلبه مِثْقَال دنيار مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُ: ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا خَيِّرًا فَيَقُولُ اللَّهُ شُفِّعَتِ الْمَلَائِكَةُ وَشُفِّعَ النَّبِيُّونَ وَشُفِّعَ الْمُؤْمِنُونَ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ فَيُخْرِجُ مِنْهَا قَوْمًا لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ قَدْ عَادُوا حُمَمًا فَيُلْقِيهِمْ فِي نَهْرٍ فِي أَفْوَاهِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ: نَهْرُ الْحَيَاةِ فَيَخْرُجُونَ كَمَا تَخْرُجُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ كَاللُّؤْلُؤِ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِمُ فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الرَّحْمَن أدخلهم الْجنَّة بِغَيْر عمل وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ فَيُقَالُ لَهُمْ لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمثله مَعَه ".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وفي رواية أبي هريرة " فيقولون: هذا مكاننا حتى يأتينا ربنا فإذا جاء ربنا عرفناه "وفي رواية أبي سعيد: " فيقول هل بينكم وبينه آية تعرفونه؟ فيقولون: نعم فيكشف عن ساق فلا يبقى من كان يسجد لله من تلقاء نفسه إلا أذن الله له بالسجود ولا يبقى من كان يسجد اتقاء ورياء إلا جعل الله ظهره طبقة واحدة كلما أراد أن يسجد خر على قفاه ثم يضرب الجسر على جهنم وتحل الشفاعة ويقولون اللهم سلم سلم فيمر المؤمنون كطرف العين وكالبرق وكالريح وكالطير وكأجاويد الخيل والركاب فناج مسلم ومخدوش مرسل ومكدوس في نار جهنم حتى إذا خلص المؤمنون من النار فوالذي نفسي بيده ما من أحد منكم بأشد مناشدة في الحق - قد تبين لكم - من المؤمنين لله يوم القيامة لإخوانهم الذين في النار يقولون ربنا كانوا يصومون معنا ويصلون ويحجون فيقال لهم: أخرجوا من عرفتم فتحرم صورهم على النار فيخرجون خلقا كثيرا ثم يقولون: ربنا ما بقي فيها أحد ممن أمرتنا به. فيقول: ارجعوا فمن وجدتم في قلبه مثقال دنيار من خير فأخرجوه فيخرجون خلقا كثيرا ثم يقول: ارجعوا فمن وجدتم في قلبه مثقال نصف دينار من خير فأخرجوه فيخرجون خلقا كثيرا ثم يقول: ارجعوا فمن وجدتم في قلبه مثقال ذرة من خير فأخرجوه فيخرجون خلقا كثيرا ثم يقولون: ربنا لم نذر فيها خيرا فيقول الله شفعت الملائكة وشفع النبيون وشفع المؤمنون ولم يبق إلا أرحم الراحمين فيقبض قبضة من النار فيخرج منها قوما لم يعملوا خيرا قط قد عادوا حمما فيلقيهم في نهر في أفواه الجنة يقال له: نهر الحياة فيخرجون كما تخرج الحبة في حميل السيل فيخرجون كاللؤلؤ في رقابهم الخواتم فيقول أهل الجنة: هؤلاء عتقاء الرحمن أدخلهم الجنة بغير عمل ولا خير قدموه فيقال لهم لكم ما رأيتم ومثله معه ".(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

اور جناب ابوہریرہ کی روایت میں ہے کہ کہیں گے یہ ہی ہماری جگہ ہے حتی کہ ہمارے پاس ہمارا رب آوے پھر جب ہمارا رب جلوہ گر ہوگا ہم اسے پہچان لیں گے۱؎اور جناب ابو سعید کی روایت میں ہے کہ رب فرمائے گا کہ کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نشانی کہ تم اسے پہچان لو گے وہ کہیں گے ۲∞؎ہاں تو رب پنڈلی کھولے گا ۳؎تو ان میں سے جو دل کے اخلاص سے رب کو سجدہ کرتے تھے کوئی نہ رہے گا مگر الله اسے سجدہ کی اجازت دے گا۴؎اور جو لوگ اپنے بچاؤ اور دکھلاوے کے لیے سجدہ کرتے تھے ان میں سے کوئی نہ بچے گا مگر الله اس کی پیٹھ ایک تختہ بنادے گا۵؎وہ جب بھی سجدہ کا ارادہ کرے گا اپنی پیٹھ پر گر جاوے گا ۶؎پھر دوزخ پر پل رکھا جاوے گا۷؎اور شفاعت واقع ہوگی۸؎اور کہیں گے الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ ۹؎تو مسلمان پلک جھپکنے کی طرح اور بجلی کی طرح اور ہوا کی طرح پرندے کی طرح اور تیز گھوڑے کی طرح اونٹ کی طرح ۱۰؎گزریں گے،بعض تو نجات پائیں گے سلامت رہیں گے،بعض زخمی ہو کر چھوڑ دیئے جائیں گے ۱۱؎بعض دوزخ کی آگ میں گرا دیئے جائیں گے۱۲∞؎حتی کہ جب مسلمان آگ سے خلاصی پالیں گے تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے نہیں ہے تم میں سے کوئی زیادہ جھگڑنے والا اپنے اس حق میں جو تمہیں ظاہر ہوجاوے بمقابلہ مسلمانوں کے جو وہ الله سے جھگڑیں گے قیامت کے دن اپنے دوزخی بھائیوں کے لیے۱۳؎عرض کریں گے یارب وہ لوگ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے نمازیں پڑھتے تھے اور حج کرتے تھے۱۴؎تو ان سے کہا جاوے گاکہ جنہیں تم پہچانتے ہو نکال لو ان کی صورتیں آگ پر حرام کردی جائیں گی۱۵؎یہ لوگ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے پھرکہیں گی یارب جن کے متعلق تو نے ہم کو حکم دیا تھا ان میں سے تو کوئی باقی نہ رہا ۱۶؎رب فرمائے گا واپس جاؤ جس کے دل میں دینار برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو تو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گا لوٹ جاؤ جس کے دل میں زرہ برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گا واپس جاؤ جس کے دل میں آدچھی دینار برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو۱۷؎چنانچہ وہ بہت ہی خلقت کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گالوٹ جاؤ جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے ۱۸؎پھر عرض کریں گے یارب ہم نے دوزخ میں کسی بھلائی والے کو نہ چھوڑا ۱۹؎تب الله تعالٰی فرمائے گا کہ فرشتوں نے شفاعت کرلی رسولوں نے شفاعت فرمالی مؤمنوں نے شفاعت کرلی ۲۰؎اب سواء ارحم الراحمین کے اور کوئی باقی نہ رہا۲۱؎تب آگ میں سے ایک مٹھی بھرے گا تو ان لوگوں کو وہاں سے نکال دے گا جنہوں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی ۲۲∞؎جو کوئلے ہوچکے ہوں گے ۲۳؎انہیں اس نہر میں ڈالے گا جو جنت کے دہانوں میں ہے جسے زندگی کی نہر کہا جاتا ہے تو وہ یوں اگیں گے جیسے دانہ سیلاب کے اوپر کے کوڑا میں اگتا ہے۲۴؎پھر وہ نکلیں گے موتی کی طرح ان کی گردنوں میں مہریں ہوں گی۲۵؎انہیں لوگ کہیں کے کہ یہ الله کے آزاد کردہ ہیں جنہیں رب نے بغیر عمل کیے ہوئے بغیر بھلائی آگے بھیجے ہوئے جنت میں داخل فرمادیا۲۶؎تو ان سے کہا جاوے گا کہ تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے دیکھا اور اس کی مثل ۲۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱؎یہاں آنے سے مراد تجلی فرمانا اپنا جمال دکھانا ہے۔خیال رہے کہ مسلمان قبر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور قیامت میں رب تعالٰی کو تعلق ایمان سے پہچانیں گے اگرچہ اس سے پہلے انہوں نے کبھی دیدار نہ کیا تھا وہاں پہچان رشتہ ایمان سے ہوگی۔۲∞؎وہ علامت و نشانی محبت الٰہی ہے جو ایمان و عرفان کا نتیجہ ہے اس ذریعہ سے ہم رب تعالٰی کو پہچان لیں گے۔۳؎پنڈلی کھولنے کی بہت توجیہیں کی گئی ہیں مگر صحیح تر یہ ہے کہ یہ متشابہات میں سے ہے رب تعالٰی پنڈلی وغیرہ سے پاک ہے۔بعض نے فرمایا کہ اس سے ان لوگوں کی پنڈلی مراد ہے یعنی ان پر ایسی تکلیف نازل ہوگی کہ ان کی پنڈلی کھل جائے گی،بعض نے فرمایا کہ اس سے رب تعالٰی کی پنڈلی مرا دہے جو اس کے شان کے لائق ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے رب تعالٰی کی تجلی صفات مراد ہے۔الله اعلمبمراد حبیبہصلی الله علیہ و سلم۔۴؎سبحان الله!مزے دار سجدہ یہ ہوگا اب تک بغیر دیکھے سجدے کیے تھے آج مسجودلہ کی تجلی دیکھ کر سجدے کریں گے۔کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبیں نیاز میں
۵
؎یعنی ان ریاکار منافقوں کی پیٹھ اکڑ جاوے گی ٹیڑھی نہ ہوسکے گی اور سجدہ میں پیٹھ خم ہونا ضروری ہے اس لیے بجائے سجدہ کے اوندھے گریں گے۔۶؎یہ سجدہ مخلصین و منافقین میں چھانٹ ہوگا جو درست سجدہ کرلے گا وہ مخلص مؤمن ہے،جو نہ کرسکے گا وہ منافق۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ دیدار الٰہی منافقین کو بھی ہوگا۔(مرقات)مگر مؤمنوں کو محبت والا دیدار ہوگا منافقوں کو ہیبت بلکہ وحشت والا۔۷؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ پل صراط آج قائم نہیں ہے قیامت میں اس وقت قائم کیا جائے گا،اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو دوزخی اس سے پہلے دوزخ میں پہنچائے گئے وہ پل صراط سے نہ گزارے گئے کہ پل تو ان کے دوزخ میں پہنچنے کے بعد قائم کیا گیا۔۸؎اس شفاعت سے مراد ہے دوزخ سے گزارنے کی شفاعت ورنہ بہت سی شفاعتیں اس سے پہلے ہوچکیں،اب جب کہ دوزخ پر سے گزرنے کا وقت آیا تو الله کے مقبول بندے شفاعت میں مشغول ہوگئے،اسی شفاعت سے ہم گنہگاران شاءاﷲبخیریت گزریں گے۔۹؎جب تک سارے مؤمنین بخیریت گزر نہ جائیں گے تب تک انبیاءکرامسلم سلمکہتے رہیں گے صرف دوبار ہی نہ کہیں گے۔اعلٰی حضرت نے کیا خوب فرمایا شعر
پل سے گزارو راہ گزر کو خبر نہ ہو جبریل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو
۱۰
؎یعنی مؤمن اپنے اعمال و تقویٰ و اخلاص کے مطابق پل سے گزریں گے۔رکابجمع ہے مگر اس کا واحد کوئی نہیں۔(مرقاۃ)جیسےنساءکا واحد کوئی نہیں اورامراۃکی جمع کوئی نہیں یعنی پل سے پار لگنے والوں کی رفتاریں مختلف ہوں گی بعض رفتار ایسی تیز جیسے نگاہ کی رفتار،بعض کے ہوا کی سی رفتار،آ ج ایسے ہوائی جہاز تیار ہوچکے ہیں جن کی رفتار آواز سےزیادہ ہے لہذا ان رفتاروں پر حیرت نہیں کرنی چاہیے۔۱۱؎پلصراط کے کنارے پر دو طرفہ جگہ جگہ ٹیڑھے کانٹے یعنی کنڈے لٹکے ہوئے ہیں جو بار بار اوپر آتے اور گزرنے والوں کو لگتے ہوں گے،بعض لوگوں کو یہ کنڈے لگیں گے زخمی کرکے چھوڑ دیں گے،بعض لوگوں کے جسم میں داخل ہو کر انہیں نیچے کی طرف کھینچیں گے جس سے وہ دوزخ میں گرجاویں گےمخدوشسے ہی یہ مراد ہے،بعضوں کو یہ چھوئیں گے بھی نہیں وہ صحیح سلامت یہاں سے گزر جاویں گے،الله تعالٰی ہم گنہگاروں کو بخیریت پار لگادے۔۱۲∞؎مکدوشبنا ہےکدشسے بمعنی دفع یعنی پیچھے سے دھکیلنا۔یہ حال صرف کفار کا ہوگا جنہیں دوزخ میں ہمیشہ رہنا ہے۔(مرقات)بعض روایتوں میںمکدوششین سے بمعنی ٹکڑے ٹکڑے کردینا،بعض میںمکروسرے سے بمعنی اوپر تلے ڈالنا۔خیال رہے کہ گنہگار مسلمانوں کو دوزخ میں اور طرح پہنچایا جاوے گا جس سے ان کی پردہ دری نہ ہو،انہیں سزا خفیہ دی جاوے گی رسوا نہ کیا جاوے گا۔۱۳؎یعنی نجات یافتہ مسلمان ان مسلمانوں کی سفارش میں رب تعالٰی سے جھگڑیں گے جو دوزخ میں پہنچ گئے،ان کا اپنے رب سے جھگڑنا اس سے بھی زیادہ ہوگا کہ جب کوئی مقدمہ میں جیت جائے تو اپنا حق ہارے ہوئے مدعیٰ علیہ سے مانگے بتاؤ وہ کیسی جلدی کرتا ہے ایسے ہی یہ جنتی رب تعالٰی سے جھگڑ جھگڑ کر کہیں گے کہ مولٰی انہیں سب کو جلدی سے دوزخ سے نکال دے یہ جھگڑنا ناز کا ہوگا نہ کہ بے ادبی کا۔۱۴؎یعنی وہ دوزخی مسلمان دنیا میں ان عبادات میں ہمارے ساتھ رہے آج ہمارے ساتھ جنت میں کیوں نہیں مولٰی تو ان کے گناہ معاف فرمادے جنت میں پہنچادے۔۱۵؎یعنی ان دوزخی مسلمانوں کی صورتیں نہ بگڑیں گی نہ جل کر کوئلہ ہوں گی۔ان شفاعت کرنے والوں جنتیوں کو حکم ہوگا کہ اچھا تم خود دوزخ میں جاؤ پہچان پہچان کر انہیں نکال لاؤ۔۱۶؎یعنی جو نمازی روزہ دار حاجی حضرات اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں گئے تھے انہیں تو ہم نکال لائے اب بے عمل لوگ جو صرف گناہ کرتے تھے وہ ہی رہ گئے۔معلوم ہوا کہ ان جنتیوں کو دوزخ کی آگ تکلیف نہ دے گی اور یہ حضرات لوگوں کے دلوں کے ایمان کو پہچانیں گے تو حضور انور کے علم کا کیا کہنا۔۱۷؎اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ ایمان کی زیادتی کمی مقدار کی نہیں بلکہ کیفیت کی زیادتی کمی مراد ہے یہ تشبیہ صرف سمجھانے کے لیے ہے۔۱۸؎یہ ذرہ برابر ایمان والے وہ لوگ ہوں گے جن کے عقیدے تو درست تھے باقی ان کے پاس کوئی نیک عمل نہ تھا اور گناہ ان سے بچا نہ تھا ہرقسم کے گناہ کرتے رہے مگر مرے مؤمن۔۱۹؎یہاں خیر سے مراد اہل خیر ہیں اور اہل خیر سے مراد شرعی ایمان والے حضرات ہیں یعنی جس کے دل میں رائی برابر شرعی ایمان تھا ہم اسے نکال لائے۔۲۰؎یعنی جو لوگ شفاعت کے لائق تھے ان کی شفاعت ہوچکی اور وہ شفاعت کے ذریعہ دوزخ سے نکل کر جنت میں پہنچ چکے۔اس سے معلوم ہوا کہ قیامت میں انسانوں کی شفاعت فرشتے بھی کریں گے جیسے آج حاملین عرش فرشتے مؤمن انسانوں کے لیے دعائیں کررہے ہیں جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے۔۲۱؎اگرچہ اس سے پہلے بھی دوزخیوں کو رب تعالٰی نے ہی بخشاتھا مگر شفاعت کے وسیلہ سے اور ان نکالنے والوں کی معرفت سے اب ان کے نکلنے کی باری آئی جن کی بخشش کے لیے شفاعت مصطفوی کا وسیلہ تو ہے مگر انہیں دوزخ سے نکالنے میں کسی کا وسیلہ نہیں خود رب تعالٰی انہیں نکالے گا۔۲۲∞؎اس کی شرح پہلے گزرگئی کہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے سواء کلمہ پڑھنے ایمان لانے کے اور کوئی نیکی نہیں کی مگر مرقات اور نووی شرح مسلم نے فرمایا کہ ان کے پاس صرف دل کے چھپے ایمان کے اور کچھ نہیں تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کاایمان شرعی نہ تھا یعنی ساترین۔خیال رہے کہ حضور کے والدین کریمین بلکہ سارے آباؤ اجداد جو ظہور نبوت سے پہلے وفات پاگئے دوزخ میں قطعًا نہیں جائیں گے کہ وہ حضرات اہلِ توحید تھے اور اس زمانہ میں صرف عقیدہ توحید نجات کے لیے کافی تھا ان سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوا۔گناہ وہ کام ہے جس سے رب تعالٰی منع کرے ان تک ممانعت پہنچی نہیں کہ انہوں نے زمانہ نبوت پایا نہیں۔۲۳؎اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ میں جلتے رہنا موت نہ آنا کفار و مشرکین کے لیے ہوگا مؤمن گنہگار اور وہ لوگ جن کو دوزخ سے نکالا جانا ہے وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے،ان کی جان نکال لی جاوے گی انہیں دائمی عذاب نہ ہوگا۔۲۴؎یعنی جو کوڑا سیلاب میں بہتا ہوا آجائے اس میں کوئی دانہ ہو وہ پانی کے اثر سے بہت جلد اُگ پڑتا ہے اس طرح وہ بڑھیں گے۔۲۵؎یعنی پہلے وہ کالے کوئلے تھے اب جو بڑھیں گے تو موتیوں کی طرح سفید چمکیلے ہوں گے،ان کی گردنوں میں سونے کا زیور پڑا ہوگا جس سے وہ پہچانے جائیں گے کہ یہ لوگ بغیرعمل جنت میں آئے یا یہ لو گ عندالله مؤمن تھے شرعی ساتر تھے۔۲۶؎یعنی ان لوگوں کا لقب ہوگا عتیق الرحمن،نام ان کے وہ دنیا والے ہوں گے وہ لوگ اسی لقب سے بڑے خوش ہوا کریں گے۔۲۷؎یعنی جہاں تک تمہاری نظر کام کرتی ہے وہ بھی اور اس کی مثل اتنا ہی اور علاقہ بھی ہے ان کی نعمتوں کے تم کو دیا گیا۔خیال رہے کہ ان لوگوں کو صرف فضل کی جنت ملے گی اور مؤمنوں عاملین کو عمل کی جنت بھی ملے گی اور فضل کی بھی،رب فرماتاہے:"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ"اور دو جنتوں سے یہ ہی عدل و فضل کی جنتیں مراد ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5579