Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5606

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ، ثم يَصْدُرُونَ مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ، فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ، ثُمَّ كَالرِّيحِ، ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ،ثُمَّ كَالرَّاكبِ فِي رَحْلِهِ، ثُمَّ كَشَدِّ الرَّجُلِ، ثُمَّ كَمَشْيِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يرد الناس النار، ثم يصدرون منها بأعمالهم، فأولهم كلمح البرق، ثم كالريح، ثم كحضر الفرس،ثم كالراكب في رحله، ثم كشد الرجل، ثم كمشيه". رواه الترمذي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ لوگ آگ پر حاضر ہوں گے ۱∞؎پھر وہاں سے گزریں گے اپنے اعمال کے مطابق ۲؎تو ان میں سے اگلے لوگ بجلی کی کوند کی طرح،پھر ہوا کی طرح،پھر گھوڑے کی دوڑ طرح،پھر اس کی طرح جو اپنے کجاوے میں سوار ہو،پھر مرد کی دوڑ کی طرح،پھر اس کے چلنے کی طرح۳؎(ترمذی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ پلصراط سے گزریں گے جو جنت کے راستہ میں ہے اور دوزخ پر قائم ہے جیسے ہمارے لیے لاہور کے رستہ پنجاب یا راوی کا پل،چونکہ اس پل پر سے آگ اور وہاں کے تمام احوال نظر آئیں گے اس لیے اس گزرنے کو دوزخ پر وار ہونا فرمایا گیا۔اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہے"وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا"عربی میںواردکہتے ہیں پانی پر پہنچنے کو،چونکہ یہ گزرنا حوض کوثر پر پہنچنے کا ذریعہ ہے اس لیے اسےورودفرمایا۔۲؎صدرکے لفظی معنی ہیں لوٹنا مگر یہاں مراد ہے آگے بڑھ جانا وہاں سے گزر جانا کیونکہ جنت وہاں سے آگے ہے پیچھے نہیں،وہاں انکی رفتار اپنے اعمال کے مطابق ہوگی،قربانی دینے والے لوگ اپنی قربانیوں پر سوار ہوں گے مگر ان جانوروں کی رفتار اخلاص کے مطابق ہوگی۔۳؎غرضکہ بعض لوگ وہاں سے جلدگزر کر جلد جنت میں پہنچ جاویں گے،بعض لوگ دیر سے گزریں گے اور دیر سے جنت میں پہنچیں گے۔الله تعالٰی وہ سفر آسان فرمادے یعنی پل صراط سے آگے جنت کے قریب یا جنت میں حوض کوثر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5606