Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5580

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرَجُونَ قَدِ امْتُحِشُوا وَعَادُوا حُمَمًا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَوْا أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوَيَةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا دخل أهل الجنة الجنة، وأهل النار النار، يقول الله تعالى: من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان فأخرجوه، فيخرجون قد امتحشوا وعادوا حمما، فيلقون في نهر الحياة، فينبتون كما تنبت الحبة في حميل السيل، ألم تروا أنها تخرج صفراء ملتوية". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو الله تعالٰی فرمائے گا کہ جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو اسے نکال لو چنانچہ وہ نکال لیں گے ۱∞؎حالانکہ جل چکے ہوں گے اور کوئلے ہوگئے ہوں گے پھر وہ نہر حیوٰۃ میں ڈالے جائیں گے۲؎تو ایسے اُگیں گے جیسے دانہ سیلاب کے اوپر کوڑے میں اُگتا ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ دانہ اولًا پیلا ٹیڑھا نکلتا ہے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ خطاب حضرات انبیاء کرام،فرشتوں اور جنتی مؤمنوں سے ہوگا کہ دوزخ میں جاؤ گنہگاروں کو نکال کر لاؤ کہ یہ سارے حضرات ہی یہ کام کریں گے۔۲؎نہر حیوٰۃ وہی چشمہ ہے جس کا ذکر ابھی گزرا کہ یہ جنت کے دروازے پر واقع ہے،چونکہ اس پانی میں ان مردوں کو زندہ کرنے کی تاثیر ہوگی اس لیے اسے نہر حیوٰۃ کہتے ہیں۔۳؎یعنی جیسے دانہ جب اُگتا ہے تو نہایت کمزور پیلا اور ٹیڑھا ہوتا ہے پھر ہوا پانی دھوپ پاکر بہتر قوی اور سیدھا ہوجاتا ہے یہ ہی حال ان لوگوں کا ہوگا کہ اس پانی سے اولًا جئیں گے اُگیں گے مگر کمزور زرد رنگ بعد میں قوت پائیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5580