Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5601

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الجَدْعَاءِ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن عبد الله بن أبي الجدعاء قال:سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "يدخل الجنة بشفاعة رجل من أمتي أكثر من بني تميم". رواه الترمذي والدارمي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن ابی الجدعاء سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میرے ایک امتی کی شفاعت سے ۲؎قبیلہ بنی تمیم سے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے۳؎(ترمذی،دارمی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،قبیلہ بنی کنانہ سے ہیں،آپ سے صرف دو حدیثیں مروی ہیں ایک یہ،دوسریکنت نبیاو آدم فی الروح و الجسد۔(اشعہ و مرقات)۲؎وہ صاحب حضرت عثمان غنی ہیں رضی الله عنہ۔بعض نے فرمایا حضرت اویس قرنی ہیں جو تابعی ہیں۔یا یہ مطلب ہے کہ میری امت کے ایک ایک بزرگ کی شفاعت سے اتنے اتنے لوگ بخشے جائیں گے۔پہلی دو باتیں مرقات نے فرمائیں،آخری بات اشعۃ اللمعات نے۔۳؎خیال رہے کہ اس شفاعت سے مراد شفاعت صغریٰ ہے کیونکہ شفاعت کبریٰ صرف حضور ہی کریں گے۔بنی تمیم عرب کا بہت بڑا قبیلہ ہے،جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ایسی شفاعت کریں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت تو عالم کے خیال سے وراء ہے،ان کی شفاعت سے تقدیریں بدل جاویں گی،سب کی مشکلیں حل ہوجاویں گی۔شعر۔ایسی بندھی نصیب کھلے مشکلیں کھلیں دونوں جہاں میں دھوم تمہاری کمر کی ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5601