Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5603

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ وعَدَنِي أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَ مِئَةِ أَلْفٍ بِلَا حِسَابٍ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: وَهَكَذَا، فَحَثَا بِكَفَّيْهِ وَجَمَعَهُمَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: وَهَكَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ كُلَّنَا الْجَنَّةَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ إِنْ شَاءَ أَنْ يُدْخِلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ فَعَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "صَدَقَ عُمَرُ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله عز وجل وعدني أن يدخل الجنة من أمتي أربع مئة ألف بلا حساب". فقال أبو بكر: زدنا يا رسول الله! قال: وهكذا، فحثا بكفيه وجمعهما، فقال أبو بكر: زدنا يا رسول الله! قال: وهكذا، فقال عمر: دعنا يا أبا بكر. فقال أبو بكر: وما عليك أن يدخلنا الله كلنا الجنة؟ فقال عمر: إن الله عز وجل إن شاء أن يدخل خلقه الجنة بكف واحد فعل، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "صدق عمر". رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ میری امت میں سے چار لاکھ کو بغیر حساب جنت میں داخل کرے گا ۱∞؎تو جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول الله ہم کو اور زیادہ دیجئے فرمایا اور اس طرح پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ ملائے ان کا لپ بھرا ۲؎اور حضرت ابوبکر نے عرض کیا یارسول الله ہمیں زیادہ دیجئے ۳؎فرمایا اور ایسے تو حضرت عمر نے فرمایا اے ابوبکر ہمیں چھوڑو بھی۴؎تو ابوبکر نے فرمایا تمہارا کیا حرج ہے کہ ہم سب کو الله جنت میں داخل فرمائے ۵؎تو حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر الله چاہے تو ایک مٹھی میں ساری خلقت کو جنت میں داخل کردے وہ کرسکتا ہے ۶؎تب نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ عمر نے سچ کہا ۷؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہ تعداد حضور کی امت کی ہے جو احکام شرعیہ کے مکلف تھے،حضرات انبیاءکرام مؤمنوں کے فوت شدہ ناسمجھ بچے دیوانے جو دیوانگی میں فوت ہوئے ان کا کچھ حساب نہیں۔حضرات انبیاء کرام کا بھی حساب نہیں اس کی تائید وہ آیت فرمارہی ہے"یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ"۔۲؎یعنی ان چار لاکھ کے علاوہ رب تعالٰی کے لپ(بک)بھر اور بھی بغیر حساب جنت میں جائیں گے کہ حق تعالٰی ان مؤمنوں کو اپنے دونوں دست قدرت میں لے کر وہاں پہنچادے گا۔خدا کرے ہم بھی اس میں آجاویں۔منہ چھوٹا ہے طلب بڑی ہے،وہ قدرتوں والا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ جمع فرماکر یہ بتایا کہ رب تعالٰی مٹھی بھرکر نہیں بلکہ دونوں ہاتھوں سے لپ بھرکر بخشے گا۔۳؎یعنی اور زیادہ بخشش کی خبر دیجئے یا اور زیادہ بخشش کرائیے کہ حضور دعا فرمائیں کہ رب اس سے بھی زیادہ کو بے حساب بے عذاب بخشے کیونکہ رب تعالٰی آپ کی بات ٹالتا نہیں جو تم کہتے ہو وہ ہی رب کرتا ہے"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَفَتَرْضٰی∞"۔۴؎یعنی اے ابوبکر یہ اجمال رہنے دو زیادہ کی تصریح نہ کراؤ تاکہ ہم خوف و امید پر رہیں اعمال کیے جاویں۔۵؎یعنی اے عمر ذرا خاموش تو رہو،میں حضور سے ساری امت رسول کے لیے بے حساب جنتی ہونے کا وعدہ لے لیتا ہوں اے عمر تمہارا اس میں کیا بگڑتا ہے کہ سارے امتی رسول الله بے حساب جنتی ہوجاویں۔خیال رہے کہ الله رسول کے بعد حضرت ابوبکر صدیق سب سے بڑھ کر رحیم و کریم ہیں۔ان کا رحم و کرم تو مجھ سے پوچھو الله ان کی قبر نور سے بھردے،مجھ پر ان کا ان کی دختر جمیلہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ سورۂ نور والی نورانی کا بہت ہی احسان ہے۔۶؎یعنی اے ابوبکر تم جو کچھ چاہتے ہو وہ تو حاصل ہوگیا کہ صرف چار لاکھ کا حضور نے ذکر نہیں فرمایا ساتھ ہی رب کے لپ بھر کا بھی ذکر ہے یہ لپ بڑا ہی وسیع ہے۔۷؎خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کی عرض و معروض میں غلبہ امید کی جھلک ہے اور حضرت عمر فاروق کی عرض معروض میں رضا بالقضاء کا ظہور ہے اس لیے حضرت عمر کے قول کی تائید بارگاہِ نبوت سے ہوئی،نیز سب لوگ بغیر حساب بخش دیئے جائیں تو شفیعوں کی شفاعت،محبوبوں کی محبوبیت،گرتوں کے سہارے دینے والے،ڈوبتوں کے ترانے، بگڑتوں کو بنانے،گرتوں کے سنبھالنے کا ظہور کیسے ہو اس لیے حضرت عمر کے قول کو ترجیح دی گئی اور بھی بہت وجوہ ہوسکتی ہیں قیامت میں گنہگاروں کو بخشنا بھی مگر محبوبیت کی شان بندہ نوازی بھی تو دکھانی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5603