- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5595
باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5595
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَن أَنَسٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ: "أَنَا فَاعِلٌ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ؟ قَالَ: "اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ". قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ؟ قَالَ: "فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ" قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ؟ قَالَ: "فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّي لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ الْمَوَاطِنَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
وعن أنس قال: سألت النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يشفع لي يوم القيامة فقال: "أنا فاعل". قلت: يا رسول الله! فأين أطلبك؟ قال: "اطلبني أول ما تطلبني على الصراط". قلت: فإن لم ألقك على الصراط؟ قال: "فاطلبني عند الميزان" قلت: فإن لم ألقك عند الميزان؟ قال: "فاطلبني عند الحوض فإني لا أخطئ هذه الثلاث المواطن". رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا قیامت کے دن میری شفاعت فرما دیں ۱∞؎فرمایا میں شفاعت کروں گا میں نے عرض کیا یارسول الله میں حضور کو کہاں تلاش کروں۲؎فرمایا تم مجھے پہلے تو تلاش کرنا پل صراط پر میں نے عرض کیا اگر آپ کو پل صراط پر نہ پاؤں فرمایا پھر مجھے میزان کے پاس ڈھونڈھنا۳؎میں نے عرض کیا اگر میں حضور کو میزان کے پاس نہ پاؤں۴؎فرمایا پھر مجھے حوض کے پاس تلاش کرنا ۵؎کیونکہ میں ان تین جگہوں سے علاوہ میں نہ ہوں گا ۶؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎یہاں شفاعت سے مراد خاص شفاعت ہے جو خاص غلاموں کی ہوگی،شفاعت عامہ تو ہر مؤمن کی ہوگی۔خیال رہے کہ حضرت انس نے ایک شفاعت مانگ کر ایمان،تقویٰ،حسن خاتمہ،قبر کے امتحان میں کامیابی سب کچھ مانگ لی کہ یہ چیزیں شفاعت خاصہ کی تمہیدیں ہیں۔شعر
تجھ سے تجھی کو مانگ کر مانگ لی دو جہاں کی خیر مجھ سا کوئی گدا نہیں تجھ سا کوئی سخی نہیں
اس ایک کلمہ میں بہت سے وعدے ہیں: تم ایمان پر جیو گے،تمہاری زندگی تقویٰ میں گزرے گی،تمہارا خاتمہ ایمان پر ہوگا،تمہاری خطائیں قابل معافی ہوں گی،تمہاری شفاعت میرے ذمہ ہوگی کیونکہ کفر حقوق العباد کی شفاعت نہیں ہوگی۔آج بھی مسلمان روضہ اطہر پر عرض کرتے ہیں یارسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے شفاعت کی بھیک مانگتے ہیں،یہ حدیث اس مانگنے کی اصل ہے۔معلوم ہوا کہ حضور سے بھیگ مانگنا جائز ہے کہ دنیا کی ہر چیز شفاعت سے نیچے ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی سائل کو محروم نہیں کرتے"وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اولاد مانگو،دین و دنیامانگو،دنیا کی ہر نعمت مانگو،جو مانگو گے پاؤ گے وہاں سے محروم کوئی نہیں پھرتا۔۲؎خیال رہے کہ قیامت میں ایک وقت تو وہ ہوگا جب سارا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈے گا پھر وقت وہ آوے گا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم اپنے گنہگار کو ڈھونڈیں گے۔شعر
عزیز بچے کو ماں جس طرح تلاش کرے خدا گواہ یہ ہی حال آپ کا ہوگا
وہ لیں گے چھانٹ اپنے نام لیواؤں کو محشر میں غضب کی بھیڑ میں ان کی میں اس پہچان کے صدقے
حضرت انس کا سوال غالبًا پہلے وقت کے متعلق ہے کبھی ایسا بھی ہوگا کہ گنہگار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور غمخوار محبوب اپنے گنہگار کو تلاش کریں گے دو طرفہ تلاش ہوگی۔حضور پلصراط کے کنارے پر کھڑے ہوں گے تاکہ گرتوں کو سہارا دیں۔شعر
سیس پہ گٹھڑی ڈگر گھائل میرے پاؤں پیارے تمہیں سنبھالیو جب ڈگمگ میں ہوجاؤں
۳؎حضور میزان پر اپنی امت کے عمل کا وزن اپنے اہتمام سے کرائیں گے کہ اگر کسی امتی کی نیکیاں ہلکی ہوں اور وہ دوزخ میں لے جایا جانے لگے تو اپنا کوئی عمل اپنا قدم رکھ کر شفاعت فرماکر اس کی نیکیاں وزنی کرادیں دوزخ سے بچالیں کیونکہ حضور کے اعمال کا وزن نہ ہوگا۔۴؎سبحان الله!کیا پیارا سوال ہے یعنی آپ کو اس دن ایک جگہ تو مستقل قرار ہوگا نہیں کبھی ان مجرموں کے پاس کبھی دوسرے کے پاس۔کوئی قریب ترازو کوئی لبِ کوثر کوئی صراط پہ ان کو پکارتا ہوگا
کسی طرف سے سدا آئے گی حضور آؤ نہیں تو دم میں غریبوں کا فیصلہ ہوگا
کوئی کہے گا دہائی یارسول الله تو کوئی تھام کے دامن مچل رہا ہوگا
غرضکہ ایک جان اور فکر جہاںاللھم صلی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلمتو اگر آپ میزان پر نہ ملیں تو پھر کہاں تلاش کروں۔۵؎غالبًا یہاں حوض سے مراد حوض کوثر کی وہ نہر ہے جو میدان حشر میں ہوگی،اصل حوض کوثر تو جنت میں ہے،محشر میں پیا سے پانی پئیں گے،حضور اپنے اہتمام سے انہیں پلوائیں گے یہاں وہ ہی موجودگی مراد ہے۔۶؎اس حدیث کے متعلق چار باتیں خیال میں رکھو: ایک یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم خصوصی شفاعت کے اوقات میں ان تین جگہ ہوں گے ورنہ عمومی شفاعت کی جگہ تو مقامِ محمود ہے،رب فرماتاہے:"عَسٰۤیα اَنۡ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوۡدًا"حاکم کا مقام مقدمات کے وقت کچہری ہوتا ہے،کھانے وغیرہ کے وقت گھر،نماز کے وقت مسجد لہذا یہ حدیث نہ تو قرآن مجید کے خلاف ہے نہ دوسری احادیث کے۔دوسرے یہ کہ یہاں ان تین مقاموں کا ذکر وہاں کی ترتیب کے مطابق نہیں کیونکہ میزان پہلے ہے حوض کی نہر اس سے آگے،پلصراط اس کے آگے۔تیسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے ہمارے نیک اعمال ایسے بھاری ہوجائیں گے جیسے روٹی پانی میں بھیگ کر وزنی ہوجاتی ہے۔چوتھے یہ کہ یہ حدیث اس حدیث حضرت عائشہ کے خلاف نہیں کہ حضور نے فرمایا کہ ان تین مقام پر کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا،وہاں عام شوہروں کا ذکر ہے نہ کہ حضور انور کا صلی اللہ علیہ وسلم۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5595