Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5607

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضِي مَا بَيْنَ جَنْبَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ". قَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ: هُمَا قَرْيَتَانِ بِالشَّامِ، بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ ثَلَاثِ لَيَالٍ. وَفِي رِوَايَةٍ: "فِيهِ أَبَارِيقُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن ابن عمر أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إن أمامكم حوضي ما بين جنبيه كما بين جرباء وأذرح". قال بعض الرواة: هما قريتان بالشام، بينهما مسيرة ثلاث ليال. وفي رواية: "فيه أباريق كنجوم السماء، من ورده فشرب منه لم يظمأ بعدها أبدا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ نے فرمایا کہ تمہارے آگے میرا حوض ہے اس کے دو کناروں کے درمیان ایسا فاصلہ ہے جیسا جرباء اور اذرح کے درمیان ۱∞؎بعض روایوں نے کہا کہ یہ دو بستیاں ہیں شام میں جن کے درمیان تین رات کی مسافت ہے اور ایک روایت میں ہے کہ اس میں لوٹے آسمان کے تاروں کی برابر ہیں۲؎جو وہاں جائے گا اس سے پئے گا تو اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی کے دو معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ جتنا فاصلہ مدینہ منورہ اور جرباء کے درمیان ہے یا مدینہ منورہ اور اذرح کے درمیان ہے اتنا فاصلہ حوض کوثر کے دو کناروں کے درمیان ہے،دوسرے یہ کہ جتنا فاصلہ خود ان دونوں شہروں جرباء اور اذرح کے درمیان ہے اتنا فاصلہ کوثر کے دو گوشوں کے درمیان ہے،دوسرے معنی کو ترجیح ہے۔(مرقات)بعض نے فرمایا کہ جرباء اور اذرح بالکل قریب قریب ہیں لہذا فاصلہ مدینہ منورہ سے وہاں تک مراد ہے ۔۲؎صفائی چمک حسن اور تعداد میں وہاں کے لوٹے آسمانوں کے تاروں کی طرح ہیں۔(مرقات)۳؎خیال رہے کہ جنت میں جنتی دودھ شراب طہور وغیرہ پیا کریں گے مگر پیاس کی وجہ سے نہیں بلکہ لذت کے لیے پیا کریں گے۔(مرقات)پیاس تو ہمیشہ کے لیے حوض کوثر کا پانی پیتے ہی بجھ چکی ہوگی،اگر یہ حوض جنت کے اندر ہے تو اس کا پانی بھی پیا کریں گے مگر وہ بھی لذت کے لیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5607