Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5591

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ، جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحَ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! لَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ! لَا مَوْتَ. فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا صار أهل الجنة إلى الجنة وأهل النار إلى النار، جيء بالموت حتى يجعل بين الجنة والنار، ثم يذبح، ثم ينادي مناد: يا أهل الجنة! لا موت، ويا أهل النار! لا موت. فيزداد أهل الجنة فرحا إلى فرحهم، ويزداد أهل النار حزنا إلى حزنهم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جاویں گے تو موت لائی جاوے گی حتی کہ جنت و دوزخ کے درمیان رکھی جاوے گی ۱∞؎پھر ذبح کردی جاوے ۲؎پھر پکارنے والا پکارے گا اے جنتیو اب موت نہیں اور اے دوزخیو اب موت نہیں۳؎تو جنتی لوگوں کو خوشی پر خوشی بڑھ جاوے اور دوزخی لوگوں کو غم پرغم زیادہ ہوجاوے گا۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎دنبہ کی شکل میں موت اعراف پہ کھڑی کی جاوے گی۔خیال رہے کہ دنیا کے اعراض صفات وغیرہ سب کی صورتیں ہیں جو آخرت میں ظاہر ہوں گی،آج ہم خواب میں حالات کو اجسام کی شکل میں دیکھ لیتے ہیں شاہ مصر نے سات سال کا قحط سات بالیوں سات گایوں کی شکل میں دیکھا تھا۔۲؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ موت وجودی چیز ہے محض عدم نہیں،رب فرماتاہے:"خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ"لہذا موت فنا ہوسکتی ہے کہ وہ بھی مخلوق ہے۔۳؎لہذا اب ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہو نہ مرنا ہے نہ یہاں سے نکلنا،نہ بیماری نہ کوئی تکلیف،تمہیں بھی یہاں ہمیشگی ہے اور تمہارے عیش و آرام کو بھی دوام۔۴؎اس خوشی اور غم کا بیان نہیں ہوسکتا اگر وہاں موت ہوتی تو جنتی تو خوشی سے مرجاتے اور دوزخی غم سے ہلاک ہوجاتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5591