- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5577
باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5577
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- تَلَا قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى فِي إِبْرَاهِيمَ: {رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي}، وَقالَ عِيسَى: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ} فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: "اللهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي" وَبَكَى، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يَا جِبْرِيلُ! اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ -وَرَبُّكَ أَعْلَمُ- فَسَلْهُ مَا يُبْكِيهِ؟ . فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِمَا قَالَ، فَقَالَ اللَّهُ لِجِبْرِيلَ: اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ:إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ وَلَا نَسُوؤُكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- تلا قول الله تعالى في إبراهيم: {رب إنهن أضللن كثيرا من الناس فمن تبعني فإنه مني}، وقال عيسى: {إن تعذبهم فإنهم عبادك} فرفع يديه فقال: "اللهم أمتي أمتي" وبكى، فقال الله تعالى: يا جبريل! اذهب إلى محمد -وربك أعلم- فسله ما يبكيه؟ . فأتاه جبريل فسأله فأخبره رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بما قال، فقال الله لجبريل: اذهب إلى محمد فقل:إنا سنرضيك في أمتك ولا نسوؤك". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے رب تعالٰی کا یہ کلام تلاوت کیا جو حضرت ابراہیم کے متعلق ہے ۱∞؎یارب ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا تو جس نے میری پیروی کی وہ تو میرا ہوگیا۲؎اور جناب عیسیٰ کہیں گے اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں۳؎تو حضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے عرض کیا الٰہی میری امت اور روئے۴؎تو الله تعالٰی نے فرمایا اے جبریل جناب محمد کے پاس جاؤ تمہارا رب خوب جانتا ہے مگر ان سے پوچھو انہیں کیا چیز رُلا رہی ہے ۵؎تو حضور کے پاس حضرت جبریل آئے حضور سے پوچھا انہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اپنی عرض و معروض کی خبر دی ۶؎تو الله تعالٰی نے حضرت جبریل سے فرمایا تم جناب محمد کے پاس جاؤ کہو کہ ہم تم کو تمہاری امت کے معاملہ میں راضی کرلیں گے تمہیں غمگین نہ کریں گے ۷؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ حضور انور نے نماز کے باہر یہ آیت کریمہ سورۂ ابراہیم کی تلاوت فرمائی جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔۲؎اس آیت کریمہ میں الله تعالٰی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ عرض معروض بیان فرمارہا ہےجو آپ قیامت میں بطور شفاعت عرض کریں گے کہ خدایا جن لوگوں نے میری اطاعت کی وہ تو میرے ہوچکے تو انہیں میرے طفیل بخش دے اور جنہوں نے میری نافرمانی کی تومولٰی تو گنہگاروں کا بخشنے والا ہے۔غرضکہ شکایت ان کی بھی نہیں کی انہیں بھی بددعا نہ دی یہ ہے شان جمالی۔۳؎اس پوری آیت میں عیسیٰ علیہ السلام کی شفاعت کا ذکر ہے وہ بھی جمال الٰہی کا مظہر ہیں۔آپ کی عرض بھی یہ ہے کہ میرے مولٰی اگر تو ان گنہگاروں کو عذاب دے تو تو ان کا رب ہے وہ تیرے بندے،کون تجھے عذاب سے روک سکتا ہے اور تو انہیں معافی دے دے تو تو عزیز ہے حکیم ہے،تیرے ہر کام میں حکمت ہے،تو سب پر غالب ہے جسے جو چاہے دے دے تجھ سے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔۴؎یعنی ان دو محبوب نبیوں کی شفاعت کا ذکر پڑھا تو شفیع المذنبین کا دریائے رحمت جوش میں آگیا اپنی گنہگار امت یاد آگئی اور اس وقت شفاعت فرمائی۔معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں جیسی آیت تلاوت کرے اسی طرح کی دعا مانگے یہ سنت رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہے۔دعا کے وقت روناعلامت قبولیت ہے پھر حضور انور کا رونا حضور کے آنسوسبحان الله!حضور کا رونا ہماری ہنسی و خوشی کا ذریعہ ہے بادل روتا ہے تو چمن ہنستا ہے۔شعر
تانہ گریہ ابر کے خند و چمن تابہ گرید طفل کے جوشد لبن
۵؎سبحان الله!کس ناز کا سوال ہے خود جانتا ہے مگر پوچھتا ہے تاکہ محبوب صراحۃً زبان پاک سے شفاعت کریں اورامت گنہگار کی مشکلیں حل ہوں دریا ئے بخشش الٰہی جوش میں آئے۔۶؎کہ امت کی فکر ان کا غم میرے رونے کا سبب ہے۔خیال رہے کہ رونا بہت قسم کا ہے ان تمام قسموں میں افضل حضور کا شفاعت امت کے لیے رونا ہے۔۷؎یعنی آپ اپنی امت کے متعلق جو چاہیں گے جو کہیں گے ہم وہ ہی کریں گے۔احادیث میں ہے کہ اس پر حضور انور نے عرض کیا کہ تیری عزت کی قسم میں اس وقت تک راضی نہ ہوں گا جب تک کہ میرا ایک امتی بھی دوزخ میں ہو، خدا کرے ہم امتی رہیں۔(اشعہ)مرقات نے بھی اسی کے قریب فرمایا یہاں مرقات نے شفاعت ابراہیمی،شفاعت عیسوی اور شفاعت محمدی میں بہت شاندار فرق بیان فرمایا کہ ان حضرات نے اجمالی شفاعت کی مگر حضور انور نے اپنی امت کا نام لے کر تفصیلی شفاعت فرمائی کہ گنہگار ہو مگر میرا امتی ہو اسے بخش دے۔شعر
خاک اوباش وبادشاہی کن آن اوباش ہرچہ خواہی کن
نیز اس شفاعت میں اگر مگر نہیں جزم کے ساتھ دعا ہے کہ اسے ضرور بخش دے۔اس حدیث سے حضور صلی الله علیہ و سلم کی بڑی شان، امت پر بڑا کرم،امت محمدیہ کا بڑا خوش نصیب ہونا معلوم ہوا۔سارے بندے الله کی رضا چاہتے ہیں الله تعالٰی حضور کو راضی کرنا چاہتا ہے۔اس کی تائید یہ آیت کررہی ہیں"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَفَتَرْضٰی∞"حضرت ابوبکر صدیق کے لیے بھی فرمایا:"وَ لَسَوْفَیَرْضٰی∞"۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5577