Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5585

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وَفِي رِوَايَةٍ: "يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِي يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ".

وعن عمران بن حصين قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يخرج قوم من النار بشفاعة محمد، فيدخلون الجنة يسمون الجهنميين". رواه البخاري.
وفي رواية: "يخرج قوم من أمتي من النار بشفاعتي يسمون الجهنميين".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ محمد مصطفی کی شفاعت سے ایک قوم آگ سے نکالی جاوے جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کا نام جہنمیں رکھا جاوے گا ۱∞؎(بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ایک قوم میری شفاعت کی بنا پر آگ سے نکالی جاوے گی جو جہنمی نام دیئے جائیں گے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎ان میں سے وہ لوگ بھی داخل ہیں جنہوں نے صرف کلمہ پڑھا اچھے عقیدے اختیار کیے مگر کوئی نیکی نہ کی اور وہ بھی داخل ہیں جنہوں نے کلمہ بھی نہیں پڑھا ان کا ایمان شرعی نہ تھا مگر وہ عند الله مؤمن تھے،دل میں ایما ن رکھتے ہیں زبان سے ظاہر نہ کرتے تھے کسی وجہ سے،ان پر دنیا میں نماز جنازہ بھی نہ ہوئی،انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن بھی نہیں کیا گیا،انہیں رب تعالٰی اپنی قدرت والی مٹھی میں بھر کر جنت میں ڈالے گا۔یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے ہی دوزخ سے نکلیں گے اس کی تحقیق ابھی کچھ پہلے کی جاچکی ہے۔۲؎یہ وہ لوگ ہیں جو کلمہ پڑھ کر مسلمان تو ہوگئے مگر غفلت میں زندگی گزار گئے کوئی نیکی نہیں کی کیونکہ انہیںامتیفرمایا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5585