Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5567

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-:"حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَكِيزَانَهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ يَشْرَبُ مِنْهَا فَلَا يَظْمَأُ أَبَدًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-:"حوضي مسيرة شهر، وزواياه سواء، ماؤه أبيض من اللبن، وريحه أطيب من المسك، وكيزانه كنجوم السماء، من يشرب منها فلا يظمأ أبدا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میرا حوض ایک مہینہ کی مسافت کا ہے ۱∞؎اور اس کے گوشے برابر ہیں۲؎اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے۳؎اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہے۴؎اس کے کوزے آسمان کے تاروں کی طرح ہیں۵؎جو اس سے پئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حوض کوثر جو میرا حوض ہے اس کی لمبائی چوڑائی کا یہ حال ہے کہ اگر اس کے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ کی طرف چلا جاوے تو چلنے والا ایک مہینہ میں وہاں پہنچے۔۲؎یعنی حوض کوثر مربع ہے لمبائی چوڑائی برابر اور اس کا ہر گوشہ زاویہ قائمہ ہے حادہ یا منفرجہ نہیں بلکہ گہرائی بھی ہر جگہ یکساں ہے یہ نہیں کہ کنارہ پر کم گہرا بیچ میں زیادہ گہرا۔۳؎نحوی قاعدہ سےاشد بیاضاچاہیے کیونکہ رنگت اور عیب سے فعل تعجب اور تفضیل بروزنافعلنہیں آتا مگر اس فرمان سے معلوم ہوا کہ یہ بھی جائز ہے،حضور تو نحویوں صرفیوں عربیوں کے امام اعظم ہیں نحو ان کی پابند ہے۔۴؎یعنی اس حوض میں دودھ بلکہ دودھ سے بھی اعلٰی چیز جس کی خوشبو مشک خالص سے بھی اچھی،الله تعالٰی ہم سب کو نصیب کرے۔۵؎تعداد اور چمک دمک میں تاروں کی طرح ہیں۔۶؎کوثر کا پانی اولًا تو پیاس بجھانے کے لیے ہم لوگ پئیں گے قبروں سے پیاسے اٹھیں گے،پھر جنت میں پہنچ کر وہ ہی کوثر پیا کریں گے مگر پیاس بجھانے کے لیے نہیں صرف لذت کے لیے،رب فرماتاہے:"وَاَنَّکَ لَا تَظْمَؤُا فِیۡہَا وَلَاتَضْحٰی"مگر بغیر پیاس بھی اس کے پینے میں لذت آئے گی جیسے بغیر بھوک وہاں کے پھل کھانے میں مزہ آوے گا،دنیا میں بغیر بھوک پیاس غذا و شربت میں مزہ نہیں آتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5567