Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5589

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لأَحَدُهُمْ أَهْدَى بِمَنْزِلهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلهِ كَانَ لَهُ فِي الدُّنْيَا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يخلص المؤمنون من النار، فيحبسون على قنطرة بين الجنة والنار، فيقتص لبعضهم من بعض مظالم كانت بينهم في الدنيا، حتى إذا هذبوا ونقوا أذن لهم في دخول الجنة، فوالذي نفس محمد بيده لأحدهم أهدى بمنزله في الجنة منه بمنزله كان له في الدنيا". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ مسلمان آگ سے نجات پائیں گے تو وہ جنت دوزخ کے درمیان ایک پل پر روکے جائیں گے ۱∞؎تو بعض کا ان ظلموں کا بدلہ لیا جاوے گا جو ان کے درمیان دنیا میں تھے ۲؎حتی کہ جب پاک و صاف کردیئے جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جاوے گی۳؎تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد مصطفی کی جان ہے ان میں سے ہر ایک اپنے جنتی گھر کا اس سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوگا جو اپنے دنیاوی گھر کا ہدایت یافتہ تھا ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالب یہ ہے کہ یہ پل جنت دوزخ کے درمیان کوئی اور پل ہے سواء پلصراط کے کیونکہ پلصراط تو دوزخ کے اوپر واقع ہے جنت کے درمیان نہیں،نیز یہاں ارشاد ہے کہ مؤمن آگ سے نجات پاکر اس پل پر پہنچے گے یعنی پلصراط سے گزر جانے کے بعد اور اگر اس سے پلصراط ہی مراد ہو تو اس کا دوسرا کنارہ مراد ہوگا جو دوزخ کے دوسری طرف جنت کی جانب،اس کا پہلا کنارہ میدان حشر کی طرف،عام شارحین نے اس سے پلصراط مراد لیا ہے۔والله اعلم!۲؎یعنی ظالموں سے مظلوموں کو بدلہ دلوایا جاوے گا خواہ جانی ظلم ہو یا مالی یا عزت و آبرو کا ظلم۔غالبًا اس سے معمولی ظلم مراد ہیں بڑے ظلم جیسے قتل،مال مار لینا وغیرہ کی سزا میں تو دوزخ میں رکھا جاوے گا۔یہاں قصاص یا تو اس طرح لیا جاوے گا کہ مظلوم سے معاف کرادیا جاوے یا مظلوم کا درجہ بڑھادیا جاوے یا ظالم کا درجہ گھٹا دیا جاوے، قصاص کی بہت صورتیں ہوسکتی ہیں۔۳؎اس سے معلوم ہوا کہ کوئی گندا جنت میں نہ جائے گا وہاں تو پاک و صاف کی جگہ ہے۔مؤمن بعض گناہوں سے تو دنیاوی تکالیف فکریں بیماریوں وغیرہ کے ذریعہ صاف کردیئے جاتے ہیں،بعض گناہوں سے سکرات موت کی وجہ سے، بعض گناہوں سے عذاب قبر کی وجہ سے مگر بعض گناہ ایسے ہیں جنہیں کچھ دن دوزخ کی آگ میں رکھ کر دور کیے جائیں گے جیسے سونے چاندی کے معمولی میل صابن برش سے صاف کیے جاتے ہیں مگر بعض میل آگ میں تپا کر ہی دور کیے جاسکتے ہیں،یہ ہی ہمارے میلوں کا حال ہے۔(اشعہ)۴؎چنانچہ کوئی جنتی جنت میں پہنچ کر کسی سے اپنے گھر کا پتہ نہ پوچھے گا بلکہ خود بخود بے تکلف وہاں ایسے پہنچ جاوے گا جیسے وہاں کا پرانا باشندہ ہے کیونکہ گناہ دھل جانے کی وجہ سے اس کا دل نورانی خالص ہوگیا نور سے کچھ نہیں چھنا۔(اشعہ)رب فرماتا ہے:"یَہۡدِیۡہِمْ رَبُّہُمْ بِاِیۡمٰنِہِمْ"الله تعالٰی دنیا میں بھی ہم کو کامل نور ایمانی عطا فرمادے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5589