Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5610

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ قَوْمٌ بِالشَّفَاعَةِ كَأَنَّهُمُ الثَّعَارِيرُ". قُلْنَا: مَا الثَّعَارِيرُ؟ قَالَ: "إِنَّهُ الضَّغَابِيسُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن جابر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يخرج من النار قوم بالشفاعة كأنهم الثعارير". قلنا: ما الثعارير؟ قال: "إنه الضغابيس". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ایک قوم شفاعت کے ذریعہ آگ سے ایسی نکالی جاوے گی جیسے کہ وہ ثعاریر ہوں ہم نے عرض کیا کہ ثعاریر کیا چیز ہے فرمایا وہ پتلی ککڑیا ں ہیں ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ضغابیسجمعضغبوسکی جس کا ترجمہ پنجابی زبان میں ہے گلے،اردو میں چھوٹی ککڑی جس پر رواں ہوں وہ بہت نرم اور نازک ہوتی ہے،چونکہ ککڑی بہت جلد بڑھتی ہے اس لیے انہیں اس سے تشبیہ دی گئی کہ وہ بہت جلد بڑھیں گے۔خیال رہے کہ ان کی جسم کی سفیدی بھی شفاعت سے ہوگی لہذا یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ وہ کوئلے ہوں گے یعنی کالے کیونکہ دوزخ سے نکلتے وقت تو وہ کالے ہوں گے مگر جنت میں پہنچتے پہنچتے سفید اور گورے ہوجائیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5610