Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5597

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم "شِعَارُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الصِّرَاطِ: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن المغيرة بن شعبة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم "شعار المؤمنين يوم القيامة على الصراط: رب سلم سلم". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمنوں کی علامت ۱∞؎قیامت کے دن صراط پر یہ ہوگی الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ ۲؎(ترمذی )اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎مؤمنین سے مراد دوسری امتوں کے مؤمنین لوگ ہیں،اس دن سب کی زبان عربی ہوگی،حضرات انبیاءکرام بھی فرمائیں گے،سلم سلمیعنی مولٰی ان گزرنے والوں کو سلامت رکھ،مؤمن بھی کہیں گےرب سلماے الله ہم کو سلامت رکھ لہذا حضرات انبیاء کا یہ کلام شفاعت ہوگا ان کا یہ کلام اپنے لیے دعا۔کفار گھبرا ئے ہوئے گزریں گے اور پھسل کر گریں گے یہ عرض مؤمنوں کی علامت ہوگی۔۲؎خیال رہے کہ دوسری امتوں کے منہ میںرب سلمہوگا حضور کی امت مؤمنین کی زبان پرلا الہ الا انتہوگا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ مؤمنینلا الہ الا انتکہتے گزریں گے کیونکہ وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت مراد ہے اور یہاں دوسری امتیں۔(مرقات)ابن مردویہ میں حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ مؤمنین یہ کہتے ہوئے گزریں گےلا الہ الا انت و علی الله فلیتوکل المؤمنون،امام شیرازی نے حضرت ام المؤمنین سے روایت کی کہ مؤمنین اس اندھیری میں کہیں گےلا الہ الا انت۔(مرقات)ہوسکتا ہے کہ مختلف طبقہ کے مؤمنین یہ مختلف دعائیں عرض کریں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5597