- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5573
باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5573
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: اشْفَع إِلَى رَبِّكَ فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ فَإِنَّهُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ، فَيَأْتونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللَّه، فَيَأْتُونَ مُوسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ، فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ، فَيَأْتُونِّي فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي، وَيُلْهِمُنِي مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا، لَا تَحْضُرُنِي الآنَ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ،فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأقولُ: يَارَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ أَوْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَنْطَلِقُ، فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِثْقَالِ حَبَّةِ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ فَأَنْطَلِقُ فَأفْعَلُ، ثم أَعُودُ الرَّابِعَةَ فأحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِد ثُمَّ أَخِرُّ لهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ: وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، وَلَكِنْ وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي لأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ: لَا إِلَه إِلَّا اللَّه". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا كان يوم القيامة ماج الناس بعضهم في بعض، فيأتون آدم فيقولون: اشفع إلى ربك فيقول: لست لها، ولكن عليكم بإبراهيم فإنه خليل الرحمن، فيأتون إبراهيم فيقول: لست لها، ولكن عليكم بموسى فإنه كليم الله، فيأتون موسى، فيقول: لست لها، ولكن عليكم بعيسى فإنه روح الله وكلمته، فيأتون عيسى فيقول: لست لها، ولكن عليكم بمحمد، فيأتوني فأقول: أنا لها، فأستأذن على ربي فيؤذن لي، ويلهمني محامد أحمده بها، لا تحضرني الآن، فأحمده بتلك المحامد، وأخر له ساجدا فيقال: يا محمد! ارفع رأسك، وقل تسمع، وسل تعطه، واشفع تشفع،فأقول: يا رب! أمتي أمتي، فيقال: انطلق فأخرج من كان في قلبه مثقال شعيرة من إيمان، فأنطلق فأفعل، ثم أعود فأحمده بتلك المحامد، ثم أخر له ساجدا، فيقال: يا محمد! ارفع رأسك، وقل تسمع، وسل تعطه، واشفع تشفع، فأقول: يارب! أمتي أمتي، فيقال: انطلق فأخرج من كان في قلبه مثقال ذرة أو خردلة من إيمان، فأنطلق، فأفعل، ثم أعود، فأحمده بتلك المحامد ثم أخر له ساجدا، فيقال: يا محمد! ارفع رأسك، وقل تسمع، وسل تعطه، واشفع تشفع، فأقول: يا رب! ، أمتي أمتي، فيقال: انطلق فأخرج من كان في قلبه أدنى أدنى أدنى مثقال حبة خردلة من إيمان، فأخرجه من النار فأنطلق فأفعل، ثم أعود الرابعة فأحمده بتلك المحامد ثم أخر له ساجدا، فيقال: يا محمد! ارفع رأسك، وقل تسمع: وسل تعطه، واشفع تشفع، فأقول: يا رب، ائذن لي فيمن قال: لا إله إلا الله، قال: ليس ذلك لك، ولكن وعزتي وجلالي وكبريائي وعظمتي لأخرجن منها من قال: لا إله إلا الله". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ بعض بعض میں مخلوط ہوجائیں گے ۱∞؎پھر حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے عرض کریں گے اپنے رب کی بارگاہ میں شفاعت کیجئے وہ فرمائیں گے میں اس کے لیے نہیں لیکن تم حضرت ابراہیم کا دامن پکڑو وہ الله کے خلیل ہیں ۲؎تو وہ حضرت ابراہیم کے پاس جائیں گے وہ بھی کہیں گے میں اس کے لیے نہیں لیکن تم جناب موسیٰ کو پکڑو وہ الله کے کلیم ہیں تو وہ حضرت موسیٰ کے پاس جائیں گے وہ بھی کہیں گے اس کے لیے میں نہیں۳؎لیکن تم حضرت عیسیٰ کو پکڑو کہ وہ روح الله اور کلمۃ اﷲہیں تو لوگ حضرت عیسیٰ کے پاس جائیں گے وہ کہیں گے اس کے لیے میں نہیں ہوں لیکن تم حضرت مصطفی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کرو۴؎تو وہ میرے پاس آئیں گے میں فرماؤں گا ہاں میں اس کے لیے ہوں پھر میں اپنے رب سے اجازت مانگوں گا ۵؎مجھے اجازت ملے گی اور ایسی حمدیں مجھے الہام کرے گا جو ابھی میرے علم میں حاضر نہیں ۶؎میں ان حمدوں سے حمد کروں گا اور رب کے لیے سجدہ میں گرجاؤں گا پھر کہا جائے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ کہو تمہاری سنی جاوے گی،مانگو دیئے جاؤ گے،شفاعت کرو قبول کیجاوے گی،میں عرض کروں گا یا رب میری امت میری امت ۷؎تو فرمایا جاوے گا جاؤ اس کو نکالو جس کے دل میں جَو برابر ایمان ہو تو میں چلوں گا اور یہ عمل کروں گا ۸؎پھر واپس لوٹوں گا انہی حمدوں سے رب کی حمد کروں گا پھر اس کے لیے سجدہ میں گروں گا تو کہا جاوے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ،کہو سنی جاوے گی،مانگو تمہیں وہ دیا جاوے گا، شفاعت کرو قبول کی جاوے گی تو میں عرض کروں گا یا رب میری امت میری امت تو کہا جاوے گا چلو اسے نکال لو جس کے دل میں ذرہ یا رائی کے دانہ برابر ایمان ہو ۹؎چنانچہ میں چلوں گا یہ عمل کروں گا پھر لوٹ کر آؤں گا تو رب کی انہیں حمدوں سے ثنا کروں گا،پھر اس کے لیے سجدہ میں گرجاؤں گا تو کہا جاوے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ کہو سنی جاوے گی،مانگو تمہیں دیا جاوے گا،شفاعت کرو قبول کی جاوے گی تو میں کہوں گا یارب میری امت میری امت فرمایا جاوے گا ۱۰؎جاؤ اسے نکال لو جس کے دل میں رائی کے دانہ سے کمتر ایمان ہوچنانچہ میں جاؤں گا اسے آگ سے نکال لاؤں گا چنانچہ ہم جائیں گے اوریہ کام کریں گے ۱۱∞؎پھر میں چوتھی بار لوٹوں گا اور رب تعالٰی کی حمد و ثنا انہیں محامد سے کروں گا،پھر میں اس کے حضور سجدہ کناں عرض کروں گا تو کہا جاوے گا اے محمد سر اٹھاؤ،کہو سنی جاوے گی،مانگو دیئے جاؤ گے،شفاعت کرو قبول کی جاوے گی۱۲؎تو میں عرض کروں گایارب مجھے اس کے متعلق اجازت دے جس نےلا الہ الا اللهکہاہو۱۳؎رب فرمائے گا یہ تمہارا نہیں لیکن میری عزت و جلالت اورکبریائی کی اور میری عظمت کی قسم میں وہاں سے اسے نکال دوں گا جس نے کہالا الہ الا الله۱۴؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎ماجبنا ہےموجسے بمعنی مخلوط ہونا،بے قرار ہونا۔یعنی اولًا تو لوگ محشر میں اکیلے اکیلے حیران کھڑے ہوں گے، بہت دراز عرصہ گزارنے پر بعض بعض سے ملیں گے اور مشورہ کریں گے۔اسناسمیں از آدم علیہ السلام تا روز قیامت سارے انسان داخل ہیں کافر ہوں یا مؤمن سواء حضرات انبیاء کرام کے،تلاش شفیع کے لیے سب ہی نکلیں گے حضرات انبیاء کرام نہ نکلیں گے اور ممکن ہے کہ ان لوگوں میں وہ لوگ شامل نہ ہوں جو عرش الٰہی کے سایہ میں ہوں گے کیونکہ انہیں کوئی تکلیف نہ ہوگی جس کو دفع کرانے کے لیے شفیع کو تلاش کریں مگر پہلا احتمال قوی ہے کہ یہ سارے لوگ ہی تلاش شفیع میں پھریں گے۔جو محشر میں گرفتار بلا ہیں وہ تو رہائی کے لیے شفیع ڈھونڈیں گے،دوسرے لوگ رسائی کے لیے کہ حساب شروع ہو رب کا دیدار اس سے ہم کلامی نصیب ہو۔۲؎یہاں ایک واسطہ کا ذکر نہیں فرمایا یعنی نوح علیہ السلام کا،حضرت آدم علیہ السلام بھیجیں گے نوح علیہ السلام کے پاس، وہ بھیجیں گے ابراہیم علیہ السلام کے پاس مگر چونکہ حضرت آدم کے بھیجنے سے نوح علیہ السلام کے پاس گئے ہوں گے اس لیے نوح علیہ السلام کا بھیجنا بالواسطہ آدم علیہ السلام کا بھیجنا ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ کے خلاف نہیں وہاں تفصیل تھی اور یہاں اجمال ہے۔۳؎یہاں بھی کچھ اجمال ہے،پہلے لوگ ان سے شفاعت کے لیے کہیں گے اس کے جواب میں آپ یہ فرمائیں گےلست لھاکا مطلب یہ ہے کہ شفاعت کبریٰ میرا کام نہیں اس درجہ میں میں نہیں ہوں یہ کوئی اور ہی کرے گا ہم شفاعت صغریٰ کریں گے۔۴؎حضور تک پہنچتے پہنچتے لوگوں کو ہزار سال تک لگ جائیں گے اتنی بڑی بھیڑ میں تلاش کرنا آسان نہیں ہے نہ معلوم یہ حضرات کہاں کہاں ملیں گے۔۵؎پہلے کہا جاچکا ہے کہ یہ اجازت اس جگہ داخل ہونے کی ہے نہ کہ عرض و معروض کرنے کی،عرض و معروض کی اجازت تو سجدہ کرکے حاصل کی جاوے گی۔۶؎یعنی وہ صفات جن سے میں اس سجدے میں الله کی حمد کروں گا وہ مجھے ابھی نہیں بتائے گئے اس وقت ہی بتائے جائیں گے۔خیال رہے کہ ہم بذات خود رب تعالٰی کی حمد نہیں کرسکتے جب تک کہ ہم کو حضور نہ سکھائیں،ہماری حمد حضور کے سکھانے سے ہے اور حضور کی حمد رب تعالٰی کے سکھانے اور رب کی جیسی حمد حضور انور نے کی ہے اور کریں گے مخلوق میں کسی نے ایسی حمد نہ کی اسی لیے آپ کا نام احمد ہے۔اس سجدہ میں حضور انور رب کی بے مثال حمد کریں گے اور مقام محمود پر رب تعالٰی حضور انور کی ایسی حمد کرے گا جو کوئی نہ کرسکا ہوگا اس لیے حضور انور کا نام محمد ہے صلی الله علیہ و سلم۔خیال رہے کہ حضور انور کا علم واقعات کو گھیرے ہوئے ہے کہ ہر واقعہ حضور کے علم میں ہے مگر اللہ تعالٰی کے اوصا ف کوئی نہیں گھیر سکتا کہ اس کے اوصاف غیر محدود ہیں لہذا یہ واقعہ حضور کے علم غیب کلی کے خلاف نہیں۔۷؎یعنی میری امت کو بخش دے میری امت کو بخش دے۔الله تعالٰی نے ہر نبی رسول کو ایک ایک خصوصی دعا عطا فرمائی تھی جس کی قبولیت کا پورا وعدہ فرمایا تھا،سارے نبیوں نے اپنی دعائیں دنیا ہی میں مانگ لیں حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے اپنی وہ دعاء خاص محفوظ رکھی ہے اس دعا سے امت کی شفاعت فرمائیں گے۔یہ وہ ہی دعا ہے جس سے آپ شفاعت فرما رہے ہیں صلی الله علیہ وسلم۔۸؎خیال رہے کہ ایمان و اسلام میں حقدار کی زیادتی کمی ناممکن ہے کیونکہ یہ ایک بسیط چیز ہے جس کے اجزاء نہیں،ہاں کیفیات میں یا نتائج میں زیادتی کمی ہوسکتی ہے جیسے علم الیقین سے عین الیقین اور عین الیقین سے حق الیقین اعلٰی ہے مگر کیفیت میں،نیز بعض مؤمنین کو اعمال کی توفیق ملتی ہے بعض کو عرفانِ الٰہی،یہ نتیجہ میں فرق ہے جو وغیرہ کا ذکر اسی فرق کی بنا پر ہے لہذا احادیث واضح ہیں۔۹؎ذرہسے مراد یا چھوٹی چیونٹی ہے یا ریت کا ذرہ یاھباء منثوریعنی جو اندھیری کوٹھری میں کسی روزن سے دھوپ آنے سے اس میں باریک بارک روئیں اڑتے نظر آتے ہیں۔بہرحال مقصود ایمان کا ادنیٰ درجہ ہے جس کے ساتھ اور کوئی نیکی نہ ہو۔۱۰؎حمد الٰہی وہ ہی ہوگی شفاعت کے الفاظ بھی وہ ہی ہوں گے مگر ان سے فائدہ اٹھانے والے جدا گانہ پہلی بار اور لوگ نکالے گئے اس بار،دوسرے لوگ ہر بار میں مختلف گنہگار بخشے جائیں گے جیساکہ حدیث سے ظاہر ہے۔۱۱∞؎اس پوری حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم گنہگاروں کو نکالنے کے لیے دوزخ میں تشریف لے جائیں گے جس سے پتہ لگا کہ حضور ہم گنہگاروں کی خاطر ادنی جگہ پر تشریف لے جائیں گے ۔اگر آج میلاد شریف یا مجلس ذکر میں حضور تشریف لاویں تو ان کے کرم سے بعید نہیں ان سے ان کی شان نہیں گھٹتی ہمارے اور ہمارے گھروں کی شان بڑھ جاتی ہے۔شعر
ذیشان و شوکت سلطان نہ گشت چیزے کم زالتفات بمہماں سرائے دہقانے
کلاہ گوشہ دہقان بہ آفتاب رسید کہ سایہ برسر ش افگند چوں تو سلطانے
ہم نے عرض کیا ہے۔شعر
جو کرم سے اپنے شاہِ امم رکھیں مجھ غریب کے گھر قدم مرے شاہ کی نہ ہو شان کم کہ گدا یہ ان کا پیار ہے
ولے مجھ غریب کا غمکدہ بنے رشک خلد بریں شہا کرے ناز اپنے نصیب پر بلے شاہ وہ جو گنوار ہے
دوسرے یہ کہ دوزخ کی آگ نور میں اثر نہیں کرسکتی حضور نور ہیں آگ سے تکلیف حضور کو نہیں پہنچ سکتی۔ہمارا نور نظر آگ سے نہیں جلتا بلکہ حضور کے خاص خدام بھی شفاعت کرنے دوزخ سے نکالنے کے لیے دوزخ میں کود جائیں گے انہیں بھی آگ نقصان نہیں دے گی۔تیسرے یہ کہ رب تعالٰی ہے بخشنے والا رحمت فرمانے والا مگر اپنی ساری نعمتیں حضور کی معرفت دیتا ہے۔دیکھو حضور صلی الله علیہ و سلم کی شفاعت سے ان لوگوں کو دوزخ سے رہائی دنیا میں بھی ہم کو قرآن،ایمان،اسلام،عرفان جو کچھ دیا سب رب نے دیا مگر حضور انور کے ذریعہ دیا بغیر ان کے واسطے کے کسی کو کچھ نہیں دیتا۔شعر
بے ان کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرے حاشا غلط یہ ہوس بے بصر کی ہے
حضور کی شفاعت پہلے ہوئی گنہگار کی رہائی بعد میں بلکہ رہائی شفاعت کے وجہ سے ہوئی۔چوتھے یہ کہ شرعی ایمان والوں کی حضور صرف شفاعت ہی نہیں کریں گے بلکہ شفاعت بھی کریں گے اور دستگیری بھی۔سجدہ کرکے عرض معروض کرنا شفاعت ہے،دوزخ میں جاکر انہیں نکالنا دستگیری ہے۔حضور دستگیر دو جہاں ہیں جو انہیں دستگیر مددگار نہ مانے وہ اس فرمان عالی کا منکر ہے۔پانچویں یہ کہ ایمان شرعی والوں کی حضور شفاعت و دستگیری دونوں کریں گے جن کا ایمان شرعی نہ تھا ان کی شفاعت تو فرمائیں گے دستگیری نہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔۱۲؎خیال رہے کہ یہ چوتھی شفاعت ان لوگوں کے لیے ہے جو دنیا میں شرعی مؤمن نہ تھے عند الله مؤمن تھے ورنہ شرعی مؤمن تو ادنیٰ سے ادنیٰ بھی پہلی تین شفاعتوں سے دوزخ سے رہا کردیئے گئے ہیں اب یہ وہ ہی لوگ ہیں جو شرعًا مؤمن تھے ہی نہیںعنداللهمؤمن تھے۔۱۳؎اس کے متعلق بڑی گفتگو ہے کہ یہلا الہ الا اللهکہنے والے کون لوگ ہیں۔بعض شارحین نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو عمر بھر کافر رہے مرتے و قت مؤمن ہو کر مرے عمل کوئی نہ کیا،بعض نے فرمایا کہ یہ گزشتہ امتوں کے کلمہ گو گنہگار لوگ ہیں نہ کہ حضور کی امت کے، یہ مرقات نے فرمایا مگر یہ دونوں توجیہیں کچھ ضعیف سی ہیں کیونکہ یہ دونوں تو مؤمن ہیں بلکہ پہلا شخص بے گناہ مؤمن ہے کہ اسے گناہ کا وقت نہیں ملا۔فقیر کے نزدیک یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل میں ایمان تھا مگر زبان سے اس کا اقرار نہیں کیا،یہ لوگ الله کے نزدیک مؤمن ہیں شریعت میں کافر،جیسے ابو طالب وغیرہ انہیں شریعت میں ساتر کہتے ہیں اور جس کی زبان پر ایمان ہو دل میں کفر اسے منافق کہتے ہیں اور جو دل و زبان دونوں کا مؤمن ہو اسے مخلص مؤمن اور جو دل و زبان دونوں کا کافر ہوا اسے مجاہر کہا جاتا ہے۔فیمن قالمیں قول سے مراد دلی قول ہے یعنی ماننا اورلا الہ الا اللهسے مراد سارے اسلامی عقیدے ہیں لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔اس میں منافقین یا دوسرے توحیدی عقیدہ رکھنے والے کفار داخل نہیں،صرف ساترین مراد ہیں لہذا موجودہ مرزائی چکڑالوی وغیرہ اس سے خارج ہیں۔۱۴؎یعنی ان ساترین کے متعلق تمہاری یہ چوتھی شفاعت قبول ہے مگر انہیں نکالنے کے لیے آپ کو تکلیف نہیں دی جائے گی کیونکہ وہ صراحۃً آپ کی امت میں داخل نہیں ہوئے اور دنیا میں ان پر شریعت کے احکام جاری نہیں ہوتے حتی کہ ان کا اسلامی کفن دفن نہیں کیا گیا،آج بھی مخلص مؤمن اور یہ ساترین تمہاری شفاعت سے تو نکلیں گے مگر تمہارے ہاتھوں سے نہیں کیونکہ دنیا میں ان کے ہاتھ میں تمہارا ہاتھ نہ تھا۔ہماری اس شرح سے پتہ لگا کہ یہ لوگ بھی حضور کی شفاعت سے ہی نکلے،شفاعت سے کوئی بے نیاز نہیں اس لیے انہیں اس سجدہ سے اور شفاعت سے پہلے دوزخ سے نہیں نکالا گیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5573