Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5594

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوْضًا،وَإِنَّهُمْ لَيَتَبَاهَوْنَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ وَارِدَةً، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ وَارِدَةً". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن سمرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن لكل نبي حوضا،وإنهم ليتباهون أيهم أكثر واردة، وإني لأرجو أن أكون أكثرهم واردة". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ہر نبی کا حوض ہے اور وہ حضرت اس پر فخر کریں گے کہ ان میں سے کس کے پاس زیادہ آنے والے ہیں ۱∞؎اور میں امید کرتا ہوں کہ میں ان سب میں زیادہ ہوں گا آنے والوں میں ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎ہر نبی کا حوض علیحدہ ہوگا مگر ہمارے حضور کا حوض جس کا نام کوثر ہے ان سب سے بڑا سب سے خوبصورت اور سب سے لذیز ہوگا۔۲؎کیونکہ ہر نبی کے حوض پر ان کی امت ہی حاضرہوگی۔امت کی زیادتی نبی کے لیے،شاگردوں کی زیادتی استاد کے لیے، مریدین کی زیادتی شیخ کے لیے،رعایا کی کثرت بادشاہ کے لیے باعث فخر ہوتی ہے۔اس زیادتی کا ذکر دوسری حدیث میں ہے کہ جنتی لوگوں کی کل صفیں ایک سوبیس ہوں گی جن میں سے اسّی صفیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت باقی چالیس صفوں میں ساری امتیں۔خیال رہے کہ ایسے موقعہ پرلعلاوررجاءشک کے لیے نہیں بلکہ یقین کے لیے ہوتا ہے جیسے قرآن مجید میں بہت جگہلعلفرمایا گیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5594