Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5586

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دخُولًا، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا. فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! وَجَدْتُهَا مَلأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّة، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا. فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ مِنِّي -أَوْ تَضْحَكُ مِنِّي- وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ "، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَكَانَ يُقَالُ: ذَلِكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إني لأعلم آخر أهل النار خروجا منها، وآخر أهل الجنة دخولا، رجل يخرج من النار حبوا. فيقول الله: اذهب فادخل الجنة، فيأتيها فيخيل إليه أنها ملأى، فيقول: يا رب! وجدتها ملأى، فيقول الله: اذهب فادخل الجنة، فإن لك مثل الدنيا وعشرة أمثالها. فيقول: أتسخر مني -أو تضحك مني- وأنت الملك؟ "، ولقد رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ضحك حتى بدت نواجذه، وكان يقال: ذلك أدنى أهل الجنة منزلة. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں جانتا ہوں دوزخ والوں میں سے آخری نکلنے والے کو اور جنت میں آخری داخل ہونے والے کو ۱∞؎ایک شخص آگ سے گھسٹتا ہوا نکلے گا تو رب فرمائے گا جا جنت میں داخل ہو جا وہ وہاں جاوے گا اسے خیال بندھے کہ جنت بھری ہوئی ہے ۲؎وہ کہے گا یارب میں نے جنت بھری ہوئی پائی ۳؎تو رب فرمائے گا جا جنت میں داخل ہوجا کیونکہ تیری ملکیت دنیا کی برابر اور اس کا دس گنا ہے۴؎وہ کہے گا کیا تو مجھ سے تمسخر کرتا ہے یا مجھ سے ہنسی فرماتا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ حضور ہنسے حتی کہ آپ کی ڈاڑھیں مبارک چمک گئیں ۵؎اور کہا جاتا تھا کہ یہ جنت والوں میں ادنیٰ درجہ کا ہوگا ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎رجلسے مراد صرف ایک شخص نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگ ہیں۔حضور ان سب کو تفصیلًا جانتے ہیں ان کے نام، ان کے خاندان،ان کی شکل و صورت وغیرہ جیساکہاعلمسے معلوم ہوا۔شعر
ہم نے عرض کیا ہے۔
ایک ماہ مدن گورا سا بدن نیچی نظریں کُل کی خبریں
۲
؎کیونکہ جہاں تک اس کی نگاہ کام کرے گی وہاں تک آدمی ہی آدمی نظر آئیں گے کوئی جگہ جنتیوں سے خالی اسے نظر نہ آوے گی۔۳؎میرے مولٰی اب میں کہاں جاؤں گا جنت میں تو کوئی جگہ خالی ہی نہیں۔۴؎اس دن گناہ فرمانے میں عجیب حکمت ہوگی کیونکہ مؤمن کا دنیا میں رہنا بھی نیکی ہے اور نیکی کا بدلہ دس گنا ہے "مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"لہذا اس قانون سے اسے دنیا کا دس گنا رقبہ عطا ہوا۔(مرقات)۵؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنسنے سے مراد ہوتا ہے آپ کا تبسم فرمانا کیونکہ قہقہہ لگانا حضور سے کبھی ثابت نہیں،رب تعالٰی کے استہزاء کے معنی بیان ہوچکے۔۶؎یہ قول یا تو حضرت ابن مسعود کا ہے یا کسی اور راوی کا حضور صلی الله علیہ و سلم کا فرمان نہیں۔اس لیے کانیقالفرمایا گیا۔یعنی لوگوں میں یہ مشہور تھا کہ یہ ادنی درجہ کا جنتی ہوگا جس کی املاک اس قدر وسیع ہوں گی۔اعلٰی جنتیوں کی ملکیت کا رقبہ تو ہمارے خیال سے باہر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5586