Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5588

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَرْبَعَةٌ، فَيُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِمْ إِلَى النَّارِ، فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ؟ لَقَدْ كُنْتُ أَرْجُو إِذ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا"، قَالَ: "فَيُنْجيهِ اللَّهَ مِنْهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أنس أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "يخرج من النار أربعة، فيعرضون على الله، ثم يؤمر بهم إلى النار، فيلتفت أحدهم فيقول: أي رب؟ لقد كنت أرجو إذ أخرجتني منها أن لا تعيدني فيها"، قال: "فينجيه الله منها". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ آگ سے چار آدمی نکالے جائیں گے ۱∞؎پھر بارگاہِ الٰہی میں پیش کیے جائیں گے پھر انہیں آگ کیطرف جانے کا حکم دیا جاوے گا ۲؎تو ان میں سے ایک مڑمڑ کر دیکھے گا عرض کرے گا یارب میں امیدوار تھا جب تو نے مجھے وہاں سے نکال لیا تو اب دوبارہ نہ لوٹائے گا فرمایا تو رب اسے آگ سے نجات دے دے گا ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی چار قسم کے لوگ نکالے جائیں گے یا ہر بار میں چار چار افراد نکالے جائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ شخصی ہو۔خیال رہے کہ یہ سب لوگ بخشے جائیں گے حضور کی شفاعت سے ہی کوئی آگے کوئی پیچھے کوئی کسی طرح کوئی کسی طرح۔شفاعت سے پہلے تو رب نہ کسی سے کلام فرمائے گا نہ قیامت کا کاروبار شروع فرمائے گا۔۲؎سبحان الله!کیسا پیارا حکم ہے دوزخ سے نکل کر ہمارے حضور آؤ اچھا پھر وہاں ہی لوٹ جاؤ،اس حکم حکیمانہ پر دل و جان فدا۔اعلٰی حضرت قدس سرہ نے کیا خوب فرمایا شعر
جملہ عالم بندہ اکرام تو صدچو جان من فدائے نام تو
۳
؎معلوم ہوا کہ رب تعالٰی سے امید بھی بڑی عبادت ہے ایسی عبادت کہ مشکلیں حل کر دیتی ہے۔امید ہی وہ عبادت ہے جو اس عالم میں بھی ہوگی اور کام آوے گی امید ہی وہ عبادت ہے جو ہم جیسے گنہگاروں کا سہار اہے۔شعر
زطاعت نہ آور دم الا امید خدایا مگرداں مرانا امید
اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چار میں سے ایک شخص یہ عرض کرے گا باقی تین بھی اسی کی عرض سے بخش دیئے جائیں گے،رحمت والے کا ساتھ بھی رحمت سے حصہ دلادیتا ہے،یا وہ چاروں باری باری سے یہ عرض کریں گے یہاں صرف ایک کا ذکر ہوا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5588