Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 654

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "الْمُؤَذِّنُوْنَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن معاوية قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "المؤذنون أطول الناس أعناقا يوم القيامة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اذان دینے والے لوگ قیامت کے دن لمبی گردنوں والے ہوں گے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی گردن فراز اورسربلند ہوں گے،یا سراٹھائے رب کی رحمت کے منتظر،یا بلند قامت ہوں گے کہ دور سے پہچان لئے جائیں گے۔یہ مطلب نہیں کہ ان کے جسم چھوٹے اورصرف گردنیں لمبی ہوں گی کہ یہ بد زیبی ہے۔بعض مفسرین نےاعناقکو ہمزہ کے زیر سے پڑھا ہے،بمعنی تیزرفتاری ولمبے قدم،یعنی مؤذن جنت کی طرف دوڑتے ہوئے لمبے قدم رکھتے ہوئے جائیں گے،دوسروں سے پہلے بہشت میں داخل ہوں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 654